عالمی توانائی بحران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے خدشے کے پیش نظر بھارتی حکومت نے ملکی ایئرلائنز کو مکمل مالی دباؤ سے بچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری آئل کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے بدھ کی صبح دہلی میں ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمت بڑھا کر 2.07 لاکھ روپے فی کلو لیٹر کر دی تھی، تاہم چند گھنٹوں بعد یہ قیمت کم کر کے 1.04 لاکھ روپے فی کلو لیٹر کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی حکومت نے 2 نئی ایئرلائنز کو سروسز فراہم کرنے کے لیے این او سی جاری کردیے
میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم اپریل 2026 سے بھارت کی مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافے کا خدشہ تھا، جس کے باعث ایئر ٹکٹس کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا تھا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے حکومت نے جزوی اضافہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی کے ساتھ مشاورت کے بعد اب صرف محدود اور مرحلہ وار اضافہ نافذ کریں گی۔ مقامی ایئرلائنز پر تقریباً 25 فیصد یا 15 ہزار روپے فی کلو لیٹر کے قریب اضافہ لاگو ہوگا، جبکہ عالمی سطح پر مکمل قیمتیں نافذ نہیں کی جائیں گی۔
تاہم بین الاقوامی پروازیں چلانے والی ایئرلائنز کو عالمی مارکیٹ کے مطابق مکمل قیمتیں ادا کرنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی ایئر لائنز کی پرواز کے دوران مسافر کی ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی کوشش، ’بھوت کے قبضے‘ کا دعویٰ
بھارتی وزیرِ شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو نے کہا کہ یہ فیصلہ مسافروں کو اچانک کرائے کے اضافے سے بچانے اور ایوی ایشن سیکٹر کے استحکام کے لیے کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی میں خلل اور آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے، جس کے باعث کئی ممالک میں ایئرلائنز کو آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔














