بچپن انسانی زندگی کا وہ نازک اور بنیادی دور ہوتا ہے جب شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اسی زمانے میں بچے کی عادتیں، سوچنے کا انداز، مزاج اور کردار تشکیل پاتے ہیں۔
جیسے ایک پودا اگر زرخیز مٹی، مناسب پانی اور دھوپ پائے تو مضبوط اور پھلدار درخت بن جاتا ہے، اسی طرح اگر بچے کو محبت، رہنمائی اور اچھا ماحول ملے تو وہ ایک متوازن اور باکردار انسان بن کر ابھرتا ہے
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بچوں کی تربیت کے لیے اکثر خوف کو ایک آسان ہتھیار سمجھ لیا جاتا ہے۔ کسی گھر میں ماں بچے کو چپ کرانے کے لیے کہتی ہے، ’خاموش ہو جاؤ ورنہ پولیس آ جائے گی‘، تو کہیں دادی ڈرا دیتی ہیں کہ ’سو جاؤ ورنہ جن آ جائے گا‘، کئی والدین ضد یا رونے سے بچانے کے لیے بچے کے ہاتھ میں فوراً موبائل فون بھی تھما دیتے ہیں۔ بظاہر اس کا فوری فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ خاموش ہو جاتا ہے، مگر اس کے دور رس نقصانات اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
جب بچہ مسلسل خوف کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے تو اس کے اندر غیر محسوس طور پر ڈر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ خود اعتمادی کھونے لگتا ہے، فیصلے کرنے سے گھبراتا ہے اور نئی چیزیں آزمانے سے کترانے لگتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق ایسے ماحول میں پلنے والے بچوں کا ذہن ہمیشہ ایک ممکنہ خطرے کے احساس میں رہتا ہے، جسے زہریلا ذہنی دباؤ (Toxic Stress) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں بچے نہ تو بہتر طور پر سیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی سکون کے ساتھ زندگی گزار پاتے ہیں۔
ایسے بچے اکثر بڑوں سے نظریں نہیں ملا پاتے، اپنی بات کھل کر نہیں کہتے اور بسا اوقات جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ سچ بولنے سے سزا ملے گی، جبکہ جھوٹ بولنے سے بچاؤ ہو سکتا ہے۔
یوں نیکی اور سچائی ان کے نزدیک اخلاقی قدر کے بجائے محض سزا سے بچنے کا ایک طریقہ بن جاتی ہے۔ جب ہر غلطی پر سخت ڈانٹ پڑے تو بچہ آہستہ آہستہ اپنے والدین سے دل کی باتیں چھپانے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اسے سمجھنے کے بجائے صرف ڈانٹا جائے گا۔
یہ فاصلہ بچے کو اندر سے تنہا کر دیتا ہے۔ پھر وہ کسی ایسے شخص کی طرف مائل ہو سکتا ہے جو اسے تھوڑی سی توجہ دے، چاہے وہ شخص درست نہ ہو۔ موجودہ دور میں جب بچوں کے ہاتھ میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا موجود ہیں تو یہ تنہائی بعض اوقات خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہے۔
بچوں کا ذہن فطری طور پر سوالوں سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھ کر پوچھنا، چھونا اور آزمانا چاہتے ہیں۔ اگر ہر وقت انہیں یہ کہہ کر روک دیا جائے کہ ’یہ مت کرو‘، ’اتنے سوال کیوں کرتے ہو؟‘ یا ’بڑوں کے درمیان بات نہیں کرتے‘ تو آہستہ آہستہ وہ سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یوں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جہاں سوچنے اور سوال کرنے والے کم اور صرف ماننے والے زیادہ ہوتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کو خوف سے نہیں، بلکہ محبت، نرمی اور سمجھداری سے سنواریں۔ جب بچہ غلطی کرے تو اسے ڈانٹنے کے بجائے سمجھایا جائے۔ اگر وہ کوئی چیز توڑ دے تو غصے سے چیخنے کے بجائے اس سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوا اور آئندہ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے بچہ سیکھتا ہے، ڈرتا نہیں۔
اسی طرح بچوں کے اچھے کاموں کی تعریف کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر بچہ کسی کی مدد کرے، چیزیں ترتیب سے رکھے یا سچ بولے تو اسے شاباش دی جائے، مسکرا کر حوصلہ افزائی کی جائے یا پیار سے سر پر ہاتھ رکھا جائے۔ یہ چھوٹے چھوٹے اشارے بچے کے دل میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ اچھے کام کی قدر کی جاتی ہے۔
بچوں کو سوال کرنے کی آزادی دینا بھی نہایت اہم ہے۔ بعض اوقات ان کے سوال ہمیں عجیب لگتے ہیں، مثلاً ’مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟‘ یا ’اللہ نظر کیوں نہیں آتے؟‘۔ ایسے سوالوں پر ڈرانے یا جھڑکنے کے بجائے نرم لہجے میں وضاحت کرنی چاہیے۔ اس طرح ان کا تجسس زندہ رہتا ہے اور سیکھنے کی خواہش بڑھتی ہے۔
والدین کے کردار کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ بچے سننے سے زیادہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود جھوٹ بولیں اور بچے کو سچ بولنے کی نصیحت کریں تو بچہ سچائی کو کمزوری سمجھنے لگے گا۔
اسی طرح اگر ماں خود سخت زبان استعمال کرے اور بچے کو شائستگی کا درس دے تو بچے کے ذہن میں تضاد پیدا ہوگا۔ اس لیے تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔
بچوں کو اچھی باتیں کہانیوں، کھیلوں اور روزمرہ مثالوں کے ذریعے بھی سکھائی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر سچ بولنے کی اہمیت بتانی ہو تو ’لڑکا اور بھیڑیا‘ جیسی کہانی سنائی جا سکتی ہے۔ ایسی کہانیاں بچوں کے ذہن میں دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔
والدین کو یہ احساس بھی بچوں کے دل میں پیدا کرنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔ بچہ چاہے غلطی کرے، والدین ناراض ہو سکتے ہیں مگر ان کی محبت ختم نہیں ہوتی۔ یہ احساس بچے کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے اور وہ بہتر انسان بننے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر کسی بچے میں حد سے زیادہ خاموشی، خوف یا غیر معمولی رویے نظر آئیں تو والدین کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بروقت رہنمائی نہ ملے تو یہی مسائل آگے چل کر ڈپریشن، ذہنی بیماری یا دیگر پیچیدگیوں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ڈر اور ادب میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ ادب دل میں احترام پیدا کرتا ہے، جبکہ خوف دل میں دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ خوف وقتی طور پر بچے کو خاموش تو کر دیتا ہے، مگر اندر ہی اندر یا تو بغاوت پیدا کرتا ہے یا احساسِ کمتری۔
ہمارے گھروں کو محبت، برداشت اور سمجھداری سے بھرپور ہونا چاہیے، نہ کہ چیخ و پکار اور خوف سے۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف فرمانبردار بنانا چاہتے ہیں یا خوداعتماد، ذہین اور تخلیقی انسان؟
بچے دراصل ہمارے آنے والے کل کا عکس ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل روشن ہو تو ہمیں آج اپنی تربیت کے طریقے بہتر بنانا ہوں گے۔ خوف کی جگہ علم، اخلاق اور محبت کو دینا ہوگا۔ کیونکہ جو عمارت خوف کی بنیاد پر کھڑی کی جائے، وہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














