یونان کے جزیرے کریٹ میں صحارا سے آنے والی گرد کے بادل نے آسمان کو نارنجی رنگ میں بدل دیا، جس کے باعث پروازوں کا نظام شدید متاثر ہو گیا جبکہ ایک طوفان نے بھی تباہی مچائی۔
مزید پڑھیں: اسرائیل نے مغربی صحارا کو مراکش کا حصہ تسلیم کر لیا

رپورٹس کے مطابق گرد کے گھنے بادل نے ہیراکلیون، ریتیمنو اور چانیا سمیت کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے حدِ نگاہ کم ہو کر قریباً ایک ہزار میٹر رہ گئی۔ اس صورتحال کے باعث کئی پروازیں منسوخ یا دیگر شہروں کی جانب موڑ دی گئیں۔
🏜️ CRETE ENGULFED BY HISTORIC SANDSTORM
On April 1, 2026, a massive Saharan sandstorm turned Crete’s sky and sea deep orange. With dust levels hitting 240µg/m³ and temperatures topping 30°C, authorities issued a health alert. The “Martian” haze, blown in from Libya, has caused… pic.twitter.com/qFhTQJAXKb
— Macro Pulse (@Macropulse01) April 1, 2026
فضائی حکام کے مطابق برٹش ایئرویز کی لندن سے آنے والی پرواز کو کورفو منتقل کر دیا گیا، جبکہ اسکائی ایکسپریس کی برسلز سے آنے والی پرواز کو ایتھنز بھیج دیا گیا۔
دوسری جانب زمینی حالات بھی خراب رہے، جہاں پاچیا آموس میں آنے والے بگولے نے ایک ٹرک کو الٹ دیا۔ جبکہ ایراپیٹرا میں تیز ہواؤں اور بلند لہروں نے ساحلی علاقوں کو متاثر کیا اور پانی گھروں تک داخل ہو گیا۔

ماہرین کے مطابق فضا میں گرد کے ذرات کی مقدار ایک ہزار مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے تجاوز کر گئی، جو صحت کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ شہریوں، خصوصاً سانس کے مریضوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: چین میں صحراوں کو روکنے کیلئے گرین بیلٹ لگائے جاتے ہیں
یہ صورتحال طاقتور موسمی نظام اسٹورم ارمینیو کے باعث مزید شدت اختیار کر گئی، جو بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ یونان کے مختلف علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’کالیما‘ نامی مظہر ہے، جس میں صحارا کے صحرا سے گرد ہواؤں کے ذریعے یورپ تک پہنچتی ہے، تاہم اس بار اس کی شدت معمول سے کہیں زیادہ ہے۔














