سرمایہ کاروں نے جمعرات کی صبح کے آغاز میں ہی مارکیٹ میں بھاری نقصان دیکھا، جب بمبے اسٹاک ایکسچینج (BSE Sensex) اور نفٹی 50 (Nifty) تیزی سے گر گئے۔ بدھ کے اختتام پر سینسیکس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 4,22,01,433.48 کروڑ روپے تھی، جو صبح 10 بجے تک 4,11,94,176 کروڑ روپے تک گر گئی، یعنی قریباً ایک گھنٹے میں 10 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
مزید پڑھیں:پی آئی اے کے شیئرز میں غیرمعمولی تیزی، اسٹاک ایکسچینج نے وضاحت طلب کرلی
مارکیٹ میں گرنے کی وجوہات:
ٹرمپ کا ایران کے خلاف انتباہ اور تیل کی قیمت میں اضافہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف شدید کارروائی کی دھمکی دی، جس سے برینٹ کروڈ کی قیمت قریباً 5 فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ صنعتی دھاتیں جیسے تانبہ بھی گر گئیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت: غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 1 اپریل کو 8,331 کروڑ روپے کے حصص فروخت کیے، جبکہ گھریلو اداروں نے 7,172 کروڑ روپے کے حصص خریدے، مگر یہ فروخت کو پوری طرح روکنے کے لیے کافی نہ تھا۔
ٹیکنیکل کمزوری: نِفٹی بدھ کو 22,770 کے اوپر قائم نہ رہ سکا، جس سے مارکیٹ میں مزید دباؤ آیا۔ فوری سپورٹ 21,900 کے قریب ہے، جبکہ 22,330 کے قریب خریداری کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ امن معاہدے کی امیدیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی
مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ: انڈیا وکس فائیو فیصد بڑھ گیا، جو سرمایہ کاروں کی جانب سے جلدی فروخت اور مارکیٹ میں زیادہ اتار چڑھاؤ کی توقع ظاہر کرتا ہے۔
بینک اسٹاکس پر دباؤ: ریزرو بینک آف انڈیا کے قواعد سخت کرنے کے بعد بینک اسٹاکس میں 2.6 فیصد کمی دیکھی گئی، کیونکہ یہ اقدامات بینکوں کی کھلی مارکیٹ میں مخصوص معاہدے بند کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔














