ترکیہ کی خاتونِ اول امینہ اردوان کی سرپرستی میں شروع ہونے والی زیرو ویسٹ مہم نے اب عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں چوتھا بین الاقوامی زیرو ویسٹ ڈے منایا گیا۔
یہ منصوبہ 2017 میں ترکیہ میں شروع کیا گیا تھا، جو بتدریج ایک قومی ری سائیکلنگ پروگرام سے بڑھ کر عالمی ماحولیاتی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے 2022 میں ترکیہ کی تجویز پر 30 مارچ کو بین الاقوامی زیرو ویسٹ ڈے قرار دیا تھا، جس کی 105 ممالک نے حمایت کی۔
یہ بھی پڑھیے: ہر فرد اور کمیونٹی کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں اس منصوبے کے آغاز کے بعد اب تک 9 کروڑ ٹن سے زائد کچرا دوبارہ استعمال میں لایا جا چکا ہے، جس سے اربوں لیرا کی معاشی قدر پیدا ہوئی۔ ملک کی ری سائیکلنگ شرح 2017 میں 13 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 37 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں اس کو 60 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
زیرو ویسٹ پروگرام کے تحت لاکھوں گھروں میں توانائی اور پانی کی بچت ہوئی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ بچت کروڑوں گھروں کی سالانہ بجلی اور پانی کی ضروریات کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ماحولیاتی تحفظ کے لیے نوجوانوں کی شمولیت، حکومت پنجاب کا نیا انٹرن شپ پروگرام کیا ہے؟
ترکیہ میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں نے زیرو ویسٹ نظام اپنایا ہے، جبکہ تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کو اس پروگرام کے تحت تربیت دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام اور ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ اب ایک عالمی ماڈل بن چکا ہے، جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔














