ڈیرہ اسماعیل خان میں سیف سٹی منصوبہ، جدید کیمروں کی تنصیب کا آغاز

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا حکومت نے جنوبی اضلاع میں امن و امان کی بہتری اور جدید پولیسنگ کے فروغ کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان میں سیف سٹی منصوبے کے تحت ہائی ریزولوشن نگرانی کیمروں کی تنصیب شروع کر دی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد دہشتگردی کی سرگرمیوں پر قابو پانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: مصنوعی ذہانت کے جدید ترین کیمروں سے لیس سیف سٹی منصوبہ، کیا قیامِ امن میں مدد ملے گی؟

سرکاری ذرائع کے مطابق شہر کے 88 اہم مقامات پر تقریباً 500 جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 350 پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں۔

جبکہ مزید 450 کیمروں کو نظام میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کے حساس علاقوں اور اہم شاہراہوں کی 24 گھنٹے مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

مزید پڑھیں: پنجاب کی 98 تحصیلوں میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ

یہ منصوبہ پولیس ڈیولپمنٹ پیکج کا حصہ ہے جس کے لیے صوبائی حکومت نے 2.25 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

اس جدید نظام میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کی شناخت اور مشتبہ گاڑیوں کی ٹریکنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جسے پولیس ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بلاول ہاؤس کے قریب سیف سٹی کیمروں کا ایک اہم ڈسٹری بیوشن باکس چوری، کراچی پولیس پریشان

منصوبے کے تحت جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، ٹریفک ہیڈکوارٹرز اور پولیس سہولت مرکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ شہر، کنٹونمنٹ اور ڈیرہ ٹاؤن سمیت سات خستہ حال تھانوں کی تعمیرِ نو بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ ایک دہائی بعد بھی نامکمل کیوں؟

سیف سٹی منصوبہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان تک محدود نہیں بلکہ بنوں اور لکی مروت میں بھی اسی نوعیت کے نگرانی نظام قائم کیے جا رہے ہیں۔

مزید برآں، حکومت نے ڈیرہ کے لیے 600 اور ٹانک کے لیے 200 اضافی پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی منظوری بھی دے دی ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ڈیجیٹل نگرانی اور روایتی پولیسنگ کے امتزاج سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی تشکیل دینے میں بھی مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp