اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشہور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے صحافی اور مصنف ایلکس پریسٹن کو برخاست کر دیا جب یہ انکشاف ہوا کہ انہوں نے ایک کتاب کے جائزے میں مصنوعی ذہانت اے آئی کا استعمال کیا جس کے کچھ جملے برطانوی اخبار گارڈین کے جائزے سے مشابہت رکھتے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک قاری نے دونوں جائزوں کے درمیان واضح مماثلتیں نوٹ کیں جس کے بعد نیویارک ٹائمز نے فوری طور پر تحقیقات شروع کیں۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

اس دوران ایلکس پریسٹن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اے آئی کا استعمال کیا اور اس دوران وہ گارڈین کے جائزے سے لیے گئے مواد کو شناخت کرنے میں ناکام رہے۔ پریسٹن نے کہا کہ وہ ’بہت شرمندہ‘ ہیں اور ’سنگین غلطی‘ کی۔

نیویارک ٹائمز نے گارڈین کو اس معاملے سے آگاہ کیا اور اپنے جائزے میں ایڈیٹر کا نوٹ شامل کیا جس میں اے آئی کے استعمال کا ذکر اور گارڈین کے جائزے کا حوالہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

 ایڈیٹر کے نوٹ میں کہا گیا کہ ’ایک قاری نے اطلاع دی کہ اس جائزے میں زبان اور تفصیلات گارڈین کے جائزے سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ہم نے مصنف سے بات کی جس نے بتایا کہ اے آئی ٹول نے گارڈین کے جائزے کا مواد شامل کر دیا جسے وہ ہٹانے میں ناکام رہے۔ اے آئی پر انحصار اور بغیر حوالہ کے مواد استعمال کرنا نیویارک ٹائمز کے معیارات کی واضح خلاف ورزی ہے‘۔

نمونہ مماثلت میں کرداروں کی وضاحت شامل ہے، جیسے گارڈین میں “lazy Machiavellian Stefano” اور نیویارک ٹائمز میں “lazy, Machiavellian Stefano”، اور کتاب کے اختتامی جائزے میں بھی مماثلتیں دیکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی جذبات کو سمجھنے والی اے آئی، مگر کیا اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

نیویارک ٹائمز کے ترجمان نے کہا کہ پریسٹن اب مزید لکھاری کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ پریسٹن نے 2021 سے 2026 کے دوران نیویارک ٹائمز کے لیے چھ جائزے لکھے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسی اور مضمون میں انہوں نے اے آئی کا استعمال نہیں کیا۔

پریسٹن نے کہا کہ ’میں نے اے آئی ٹول استعمال کرتے ہوئے جائزے کے ڈرافٹ میں سنگین غلطی کی اور گارڈین کے جائزے کی مماثلت ہٹانے میں ناکام رہا۔ میں اس پر بہت شرمندہ ہوں اور معافی چاہتا ہوں۔ میں نے فوری طور پر ذمہ داری قبول کی اور نیویارک ٹائمز سے معافی مانگی، نیز میں کرسٹوبل کینٹ اور گارڈین سے بھی معذرت خواہ ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ

ایلکس پریسٹن نے اوبرزر اور فائنانشل ٹائمز کے لیے وسیع طور پر لکھا ہے، نیز گارڈین اور اکانومسٹ میں بھی شراکت کی ہے۔ وہ چھ بار کے مصنف ہیں، جن کی تازہ ترین کتاب A Stranger in Corfu فروری میں شائع ہوئی، اور وہ مین گروپ میں ایڈوائزری کے سربراہ بھی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب ادروان

9 اپریل کا جلسہ: پی ٹی آئی کا موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیلات کا اعلان

ہم ایک بڑی جنگ روکنے میں کامیاب رہے، عالمی طاقتیں پاکستان کی طرف متوجہ ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

ویڈیو

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟