مشہور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے صحافی اور مصنف ایلکس پریسٹن کو برخاست کر دیا جب یہ انکشاف ہوا کہ انہوں نے ایک کتاب کے جائزے میں مصنوعی ذہانت اے آئی کا استعمال کیا جس کے کچھ جملے برطانوی اخبار گارڈین کے جائزے سے مشابہت رکھتے تھے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک قاری نے دونوں جائزوں کے درمیان واضح مماثلتیں نوٹ کیں جس کے بعد نیویارک ٹائمز نے فوری طور پر تحقیقات شروع کیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں
اس دوران ایلکس پریسٹن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اے آئی کا استعمال کیا اور اس دوران وہ گارڈین کے جائزے سے لیے گئے مواد کو شناخت کرنے میں ناکام رہے۔ پریسٹن نے کہا کہ وہ ’بہت شرمندہ‘ ہیں اور ’سنگین غلطی‘ کی۔
نیویارک ٹائمز نے گارڈین کو اس معاملے سے آگاہ کیا اور اپنے جائزے میں ایڈیٹر کا نوٹ شامل کیا جس میں اے آئی کے استعمال کا ذکر اور گارڈین کے جائزے کا حوالہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ایڈیٹر کے نوٹ میں کہا گیا کہ ’ایک قاری نے اطلاع دی کہ اس جائزے میں زبان اور تفصیلات گارڈین کے جائزے سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ہم نے مصنف سے بات کی جس نے بتایا کہ اے آئی ٹول نے گارڈین کے جائزے کا مواد شامل کر دیا جسے وہ ہٹانے میں ناکام رہے۔ اے آئی پر انحصار اور بغیر حوالہ کے مواد استعمال کرنا نیویارک ٹائمز کے معیارات کی واضح خلاف ورزی ہے‘۔
نمونہ مماثلت میں کرداروں کی وضاحت شامل ہے، جیسے گارڈین میں “lazy Machiavellian Stefano” اور نیویارک ٹائمز میں “lazy, Machiavellian Stefano”، اور کتاب کے اختتامی جائزے میں بھی مماثلتیں دیکھی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی جذبات کو سمجھنے والی اے آئی، مگر کیا اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
نیویارک ٹائمز کے ترجمان نے کہا کہ پریسٹن اب مزید لکھاری کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ پریسٹن نے 2021 سے 2026 کے دوران نیویارک ٹائمز کے لیے چھ جائزے لکھے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسی اور مضمون میں انہوں نے اے آئی کا استعمال نہیں کیا۔
پریسٹن نے کہا کہ ’میں نے اے آئی ٹول استعمال کرتے ہوئے جائزے کے ڈرافٹ میں سنگین غلطی کی اور گارڈین کے جائزے کی مماثلت ہٹانے میں ناکام رہا۔ میں اس پر بہت شرمندہ ہوں اور معافی چاہتا ہوں۔ میں نے فوری طور پر ذمہ داری قبول کی اور نیویارک ٹائمز سے معافی مانگی، نیز میں کرسٹوبل کینٹ اور گارڈین سے بھی معذرت خواہ ہوں‘۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
ایلکس پریسٹن نے اوبرزر اور فائنانشل ٹائمز کے لیے وسیع طور پر لکھا ہے، نیز گارڈین اور اکانومسٹ میں بھی شراکت کی ہے۔ وہ چھ بار کے مصنف ہیں، جن کی تازہ ترین کتاب A Stranger in Corfu فروری میں شائع ہوئی، اور وہ مین گروپ میں ایڈوائزری کے سربراہ بھی ہیں۔













