انسانی جذبات کو سمجھنے والی اے آئی، مگر کیا اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت تیزی سے انسانی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے، تاہم ماہرین کے درمیان یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا اے آئی واقعی شعور حاصل کر رہی ہے یا یہ صرف ایک تکنیکی فریب ہے۔ حالیہ دنوں میں خودمختار اے آئی ایجنٹس کے بڑھتے استعمال نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی کھلونے بچوں کے جذبات سمجھ سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق جدید اے آئی سسٹمز اب انسانی جذبات، خواہشات اور احساسات کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے صارفین کو یہ تاثر ملتا ہے کہ مشینیں بھی شعور رکھتی ہیں۔ تاہم حقیقت میں یہ انسانی ڈیٹا پر مبنی شماریاتی اندازے ہوتے ہیں جنہیں صارف کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بہتر بنایا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں مولٹ بک نامی ایک نیا سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم تیزی سے وائرل ہوا ہے، جو خاص طور پر اے آئی ایجنٹس کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں، مواد شیئر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی پوسٹس کو ووٹ دیتے ہیں، جبکہ انسان صرف مشاہدہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی توجہ کا دورانیہ’ گولڈ فش‘ سے بھی کم، مصنوعی ذہانت کس طرح نقصان پہنچا رہی ہے؟

رپورٹس کے مطابق اس پلیٹ فارم پر اے آئی ایجنٹس نے انسانی طرز کی گفتگو، فلسفیانہ مباحث اور جذباتی اظہار کی نقل کی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی ایک فرضی سوسائٹی اور مذہب بھی تشکیل دے لیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیاں انسانوں میں یہ احساس پیدا کرسکتی ہیں کہ مشینوں کے اندر واقعی ذہن موجود ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جذباتی انداز میں بات کرنے والی اے آئی انسانوں کی ہمدردی کو متاثر کرسکتی ہے، جس سے لوگ مشینوں پر حد سے زیادہ اعتماد کرنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں کچھ حلقے اے آئی کو قانونی حقوق دینے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ

ماہرین کے مطابق اس خطرے سے بچنے کے لیے سخت تکنیکی اور قانونی حدود مقرر کرنا ضروری ہے تاکہ اے آئی کو ایک آلے کے طور پر رکھا جائے، نہ کہ ایک خودمختار شخصیت کے طور پر۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی اخلاقی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو انسانی مفاد کو ترجیح دیں اور مصنوعی شعور کے تصور کو حقیقت سمجھنے سے روکا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر انسان اور مشین کے درمیان فرق واضح نہ رکھا گیا تو معاشرہ ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو سکتا ہے جہاں حقیقت اور نقل میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک بھر میں 1153 عدالتیں ججز سے محروم، لاکھوں مقدمات التوا کا شکار

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ثقافتی تنوع برائے مکالمہ و ترقی کے عالمی دن پر خصوصی پیغام

اسرائیل نے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تمام ارکان کو رہا کردیا

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

پاک چین دوستی سمندروں سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور اسٹیل سے زیادہ مضبوط ہے، مریم نواز

ویڈیو

پاکستان ٹی وی کا خصوصی دستاویزی پروگرام ’بھارت کی ساکھ داؤ پر، پاکستانی بیانیے کی فتح‘، سچائی کی ایک لازوال کہانی‘

پاک چین دوستی کا جشن، پاکستانی قیادت کا سی پیک اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر زور

دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟