ملک بھر کی عدالتوں میں وویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کا منصوبہ، ڈیزائن مقابلہ جلد متوقع

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے خواتین کو انصاف تک آسان اور محفوظ رسائی فراہم کرنے کے لیے ملک بھر کے عدالتی کمپلیکسز میں وویمن فیسیلیٹیشن سنٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے قومی سطح پر ڈیزائن مقابلے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق، چیف جسٹس نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے صنفی حساس (جینڈر-ریسپانسِو) انصاف کو ایک اہم اصلاحی ترجیح قرار دیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد خواتین درخواست گزاروں کو عدالتوں میں محفوظ، منظم اور باعزت ماحول فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے حامل جدید اقدامات شروع کردیے

اسی سلسلے میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

جس میں وویمن فیسیلیٹیشن سنٹرز کے قیام کے لیے قومی ڈیزائن مقابلے کے فریم ورک پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں سینیئر عدالتی افسران، متعلقہ اداروں کے نمائندے، ترقیاتی شراکت دار، صنفی امور کے ماہرین اور آرکیٹیکچرل کمیونٹی کے نمایاں اراکین نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کی 20 کروڑ روپے کی تزئین و آرائش، پہلی بارش میں چھتیں ٹپکنے لگیں، پانی کمروں میں داخل

شرکا میں رجسٹرار سپریم کورٹ، سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن، نیشنل کمیشن فار اسٹیٹس آف ویمن کی ایکٹنگ چیئرپرسن نورین بانو، بیرسٹر حیا ایمان زاہد، حمیرا ضیا مفتی، عنبرین افتخار اور انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان راولپنڈی-اسلام آباد چیپٹر کی چیئرپرسن رویضا حمایت شامل تھیں، جبکہ وفاقی آئینی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز نے آن لائن شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے کانسیپٹ نوٹس اور بزنس ریکوائرمنٹ ڈاکیومنٹ پر بریفنگ دی گئی، جس میں ان مراکز کے فنکشنل، آرکیٹیکچرل اور آپریشنل پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔

شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ ان مراکز کا ڈیزائن رازداری، تحفظ، شمولیت، رسائی اور ثقافتی حساسیت کو یقینی بنائے، جبکہ پائیداری اور عملی افادیت کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

مزید پڑھیں: شک کا فائدہ ملزم کو، سپریم کورٹ نے باپ کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی

اعلامیے کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انفرا اسٹرکچر کی ضروریات کی درجہ بندی کے مطابق میپنگ کریں تاکہ مختلف علاقوں میں مؤثر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔

اس کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان قومی ڈیزائن مقابلے کا باضابطہ آغاز کرے گا۔

چیف جسٹس نے اپنے اختتامی کلمات میں ادارہ جاتی تعاون، شفافیت اور میرٹ کو اس منصوبے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ منتخب ڈیزائن کو وویمن فیسیلیٹیشن سنٹرز کے لیے ایک معیاری ماڈل کے طور پر اپنایا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ عدالتی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو خواتین کو انصاف تک محفوظ، باعزت اور مؤثر رسائی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟