اداکارہ فائزہ خان نے سوال اٹھایا ہے کہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے اپنی موسیقی کی قدیم اور محبوب روایت کو کیوں نظر انداز کررہے ہیں، جبکہ بالی ووڈ والے انہی گانوں کو خوشی خوشی فلموں میں شامل کرلیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’بالی ووڈ چور ہے کبھی گانے چراتا ہے کبھی کہانیاں‘، نواز الدین صدیقی
یہ رائے انہوں نے اس خبر پر دی جس میں بتایا گیا کہ بالی ووڈ فلم ’دھرندھر‘ میں 40 سال پرانا پاکستانی گانا ہوا ہوا استعمال کرنے کے لیے گلوکار حسن جہانگیر کو 50 ہزار ڈالر رائلٹی ادا کی گئی۔
فائزہ خان نے کہا، ’کیا ہم نے اپنے لیجنڈز کو بھولا دیا ہے یا اپنی ثقافتی میراث سے دور ہو گئے ہیں؟‘ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کو یہ کلاسیک گانے معلوم نہیں اور پاکستان میں ان کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا، حالانکہ ایک ’دوسری انڈسٹری‘ چند منٹ کے لیے لاکھوں خرچ کردیتی ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ ان گانوں کی مقبولیت آج بھی نوجوان نسل میں برقرار ہے کیونکہ ’یہ فن میں خالص ہیں‘ اور ان کی موسیقی کی خوبصورتی ہر دور میں محسوس کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعے کے بعد فواد خان کی فلم ’عبیر گلال‘ کے گانے یوٹیوب سے ڈیلیٹ کردیے گئے
یہ مسئلہ بھارتی فینز کے لیے بھی تنازعہ بن گیا، جو اس بات پر ناراض ہیں کہ ایک پاکستانی کو ایک فلم کے لیے معاوضہ دیا گیا جو ان کے خیال میں پاکستان کے خلاف پیغام دیتی ہے۔
فائزہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی انڈسٹری کو اپنی ثقافت اور موسیقی کے گراں قدر خزانے کو اپنانا چاہیے اور اپنی فلموں میں کلاسیک گانوں کا استعمال بڑھانا چاہیے۔













