لکھ کر دیتا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی 9 اپریل کو جلسہ کرے گی نہ اس میں جلسہ کرنے کی صلاحیت ہے، شیر افضل مروت

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے 9 اپریل کو لیاقت باغ میں اعلان کردہ احتجاجی جلسے کی کامیابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممکن ہے کہ اعلان کے باوجود یہ جلسہ منعقد ہی نہ ہو سکے۔ ’لکھ کر دیتا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی 9 اپریل کو جلسہ کرے گی نہ اس میں جلسہ کرنے کی صلاحیت ہے۔‘

وی نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ مناسب تیاری کے بغیر ایسے بڑے جلسے کامیاب نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں یا نہیں؟ بیرسٹر گوہر نے وضاحت کردی

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ دعاگو ہیں کہ جلسہ کامیاب ہو، تاہم ان کے مطابق جلسے کے لیے درکار گراؤنڈ ورک کم از کم 15 سے 20 دن پہلے شروع ہونا چاہیے، جو بظاہر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممکن ہے کہ اعلان کے باوجود یہ جلسہ منعقد ہی نہ ہو سکے۔ ’لکھ کر دیتا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی 9 اپریل کو جلسہ کرے گی نہ اس میں جلسہ کرنے کی صلاحیت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی پی ٹی آئی کا مضبوط گڑھ ہے جہاں لاکھوں حامی موجود ہیں، لیکن پارٹی قیادت پر کارکنوں کا اعتماد کمزور دکھائی دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: شیر افضل مروت پی ٹی آئی میں واپس آنے کے لیے تیار، شرط بھی بتادی

ان کا کہنا تھا کہ لیاقت باغ جیسے مقام پر جلسہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے بھرپور تیاری ضروری ہوتی ہے۔

شیر افضل مروت نے پارٹی کے اندر احتجاج اور مذاکرات کے حوالے سے ذمہ داریوں کی تقسیم پر بھی سوال اٹھایا۔

ان کے مطابق ابتدا میں یہ اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا گیا تھا، تاہم بعد میں سہیل آفریدی کو سامنے آنا پڑا، جس سے کارکنوں میں ابہام پیدا ہوا۔

مزید پڑھیں: ’پارٹی ڈسپلن کا مطلب جھوٹ بولنا نہیں ہوتا‘، شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی کے نام کھلا خط، اہم وضاحتیں مانگ لیں

انہوں نے کہا کہ احتجاج کی اصل ذمہ داری وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو دی گئی تھی، لیکن اس حوالے سے واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری مہمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بعض عناصر وزیر اعلیٰ کو خوش کرنے کے لیے ان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، جس پر انہوں نے بھی ردعمل دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp