سعودی عرب نے مقامی سطح پر زعفران کی پیداوار میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جہاں فرسٹ گریڈ زعفران کو بین الاقوامی معیار ‘آئی ایس او 3632’ کے مطابق قرار دے دیا گیا ہے۔
یہ نتائج عالمی سطح پر تسلیم شدہ لیبارٹریز میں کیے گئے تجزیوں کے بعد سامنے آئے، جس سے قومی پیداوار کے اعلیٰ معیار اور عالمی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت ثابت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سوات میں زعفران کی کاشت، نتائج بین الاقوامی معیار سے بھی بہتر
یہ کامیابی 2024 میں شروع کیے گئے ‘استدامہ’ (پائیدار زراعت کے قومی تحقیق و ترقی مرکز) کے زعفران لوکلائزیشن منصوبے کا حصہ ہے، جو وزارت ماحولیات، پانی و زراعت اور کنگ سعود یونیورسٹی کے تعاون سے جاری ہے۔
منصوبے کا مقصد سائنسی تحقیق کو فروغ دینا، زرعی شعبے میں جدید اقدامات متعارف کرانا، اور زیادہ منافع بخش فصلوں کی پیداوار اور ویلیو چین کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں مملکت کے 10 مختلف علاقوں میں فیلڈ اور تحقیقی تجربات کیے گئے۔
ان تجربات میں زرعی ماحول کی موزونیت کا جائزہ لیا گیا، بہترین اقسام کا انتخاب کیا گیا، اور جدید زرعی طریقہ کار اپنائے گئے، جس سے پیداوار کے معیار اور پائیداری میں بہتری آئی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں رمضان کی روایت، کافی اور کھجوریں مہمان نوازی کی علامت
منصوبے کے تحت 43 کسانوں میں 5 لاکھ سے زائد زعفران کے بیج (کارمز) تقسیم کیے گئے، جبکہ 40 سے زائد فارموں پر تحقیق کے نتائج نافذ کیے گئے، جن کا رقبہ 3 لاکھ 64 ہزار مربع میٹر سے زائد ہے۔
اس کے علاوہ کسانوں کو زعفران کی کاشت، دیکھ بھال، پھولوں کی برداشت، پراسیسنگ، خشک کرنے اور ذخیرہ کرنے کے جدید طریقوں کی تربیت بھی فراہم کی گئی تاکہ پیداوار کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔













