سعودی عرب نے مختلف ادوار میں پاکستان کو اربوں ڈالر کے قرضے اور مالی سہولیات فراہم کر کے اس کی معیشت کو سہارا دیا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے اور ادائیگیوں کے توازن کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملی۔
ریکارڈ کے مطابق 2014 میں سعودی عرب نے پاکستان کو 1.5 ارب ڈالر کا قرض دیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں بہتری آئی اور ڈالر کے مقابلے میں شرح 105.40 سے کم ہو کر 97.40 تک آگئی، جو 3 دہائیوں کی مضبوط ترین بحالی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی عرب تعلقات میں بڑی پیشرفت، ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان کی خواہش کا اظہار
بعد ازاں 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کا قرض اور 3.2 ارب ڈالر کی آئل کریڈٹ سہولت فراہم کی۔ حالیہ برسوں میں سعودی تعاون کا سلسلہ جاری رہا ہے، سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ نے دسمبر 2025 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی، جو 2021 سے مسلسل رول اوور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈپازٹ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے نہایت اہم ہے۔
سعودی عرب نے پاکستان کو دیگر مالی معاونت بھی فراہم کی، جن میں کھاد کی خریداری کے لیے 200 ملین ڈالر اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 80 ملین ڈالر کا قرض شامل ہے۔

فروری 2025 میں پاکستان اور سعودی فنڈ کے درمیان 1.61 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے، جن میں 1.20 ارب ڈالر کا مؤخر ادائیگی پر تیل معاہدہ اور 41 ملین ڈالر کا رعایتی قرض شامل تھا۔
ستمبر 2025 کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو تقریباً 5 ارب ڈالر کے قرضے محض 4 فیصد شرح سود پر فراہم کر رہا ہے، جو دیگر عالمی ذرائع کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ ان میں 2 ارب اور 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس شامل ہیں، جو ہر سال رول اوور کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی عرب معاہدہ: طاقت کے توازن کی نئی تعبیر
مارچ 2026 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2026 کے ابتدائی سات ماہ میں 5.17 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کیے، جن میں سعودی عرب سب سے بڑا شراکت دار رہا اور اس نے 708 ملین ڈالر فراہم کیے، جن میں سے 700 ملین ڈالر تیل کی سہولت کے تحت تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی مسلسل مالی معاونت پاکستان کے لیے نہایت اہم رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کو آئی ایم ایف پروگرام اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔












