بنگلہ دیش میں عبوری دور حکومت کے اہم اصلاحاتی آرڈیننسز ختم ہونے کا امکان

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں پارلیمانی خصوصی کمیٹی نے عبوری حکومت کے دوران جاری کیے گئے متعدد اہم آرڈیننسز کو موجودہ پارلیمانی اجلاس میں پیش نہ کرنے کی سفارش کر دی ہے، جس کے نتیجے میں یہ قوانین ازخود ختم ہو جائیں گے۔

پارلیمنٹ میں جمعرات کو پیش کی گئی کمیٹی رپورٹ کے مطابق مجوزہ ریفرنڈم، عدالتی اصلاحات، جبری گمشدگیوں کی روک تھام، اینٹی کرپشن کمیشن اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن سے متعلق آرڈیننسز قانونی حیثیت کھو دیں گے۔

   یہ بھی پڑھیں: روسی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی امریکا سے خصوصی استثنیٰ کی اپیل

14 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے عبوری دور حکومت میں جاری کیے گئے مجموعی طور پر 133 آرڈیننسز کا جائزہ لیا۔

ان میں سے 98 کو بغیر کسی تبدیلی کے منظور کرنے، جبکہ 15 کو ترامیم کے ساتھ پیش کرنے کی سفارش کی گئی۔

تاہم 16 آرڈیننسز کو موجودہ اجلاس میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے باعث وہ آئینی تقاضوں کے تحت خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

آئین کے آرٹیکل 93 کے مطابق کسی بھی آرڈیننس کو 30 دن کے اندر پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں یہ آرڈیننسز 12 اپریل کے بعد ختم ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: بی این پی رہنما الیاس علی کے لاپتا ہونے کے معاملے میں نئے انکشافات، سابق حکومت پر سنگین الزامات

کمیٹی نے 4 آرڈیننسز کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی ہے، جن میں ججوں کی تقرری اور سپریم کورٹ سیکریٹریٹ کے قیام سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

ان اصلاحات کا مقصد عدالتی نظام میں ساختی تبدیلیاں لانا تھا، جن میں سپریم جوڈیشل اپائنٹمنٹ کونسل کا قیام بھی شامل تھا۔

اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے کمیٹی کی متعدد سفارشات پر اختلاف کیا ہے۔

 https://Twitter.com/BanglaBrit1972/status/2039793632589307905

ان کا مؤقف ہے کہ ختم کیے جانے والے بعض آرڈیننسز، خاص طور پر عدالتی آزادی اور انسداد بدعنوانی سے متعلق اقدامات، ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت ضروری تھے۔

جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ آرڈیننس میں اس جرم کو مسلسل جاری رہنے والا جرم قرار دیا گیا تھا اور متاثرین کے لیے معاوضے اور قانونی چارہ جوئی کی شقیں شامل تھیں۔

تاہم حکومت نے سیکیورٹی اداروں کے خلاف تحقیقات سے قبل پیشگی منظوری اور قومی سلامتی سے متعلق بعض حراستوں کو اس تعریف سے خارج کرنے کی تجویز دی تھی۔

 مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا پولیس اصلاحات کے لیے فرانس سے تعاون کا مطالبہ

اسی طرح اینٹی کرپشن کمیشن کے قانون میں مجوزہ ترامیم کے تحت تحقیقاتی اختیارات کو وسعت دینا شامل تھا، جن میں بیرون ملک مالی جرائم کی تحقیقات بھی شامل تھیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شفافیت اور احتساب کے لیے ایسے اختیارات ناگزیر ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض آرڈیننسز، جیسے ریونیو پالیسی کی تنظیمِ نو اور مائیکروفنانس بینکاری سے متعلق قوانین، کو مزید جائزے کے بعد مضبوط قانون سازی کی شکل میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں پولیس نظام کی تبدیلی، نوجوان افسران کو کلیدی کردار سونپ دیا گیا

دوسری جانب مقامی حکومت، مالیاتی ضوابط اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق کئی آرڈیننسز کو فوری طور پر منظور کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جن میں سے بعض کے ذریعے مقامی سطح پر انتظامی تقرریاں پہلے ہی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔

قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اہم اصلاحات میں تاخیر عدالتی آزادی اور گورننس کے معیار پر سوالات کھڑے کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب ادروان

9 اپریل کا جلسہ: پی ٹی آئی کا موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیلات کا اعلان

ہم ایک بڑی جنگ روکنے میں کامیاب رہے، عالمی طاقتیں پاکستان کی طرف متوجہ ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

ویڈیو

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟