امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنی اوپن ماڈل فیملی کے تحت نیا مصنوعی ذہانت ماڈل جیما 4 متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد پیچیدہ مسائل حل کرنے، کوڈنگ اور حقیقی دنیا کے مشکل کاموں کو زیادہ مؤثر انداز میں انجام دینا ہے۔
گوگل کے مطابق جیما 4 ایسے جدید اے آئی ماڈلز پر مشتمل ہے جو کمپنی کی جیمنی سیریز کی تحقیق کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، تاہم یہ ماڈلز اوپن ویٹس کے ساتھ دستیاب ہیں اور انہیں الگ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈلز اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت فراہم کیے گئے ہیں، جس کے باعث ڈویلپرز اور ماہر صارفین انہیں آزادانہ طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی این اے تحقیق میں انقلاب کی کوشش، گوگل ڈیپ مائنڈ نے نیا اے آئی ماڈل بنالیا
جیما 4 مختلف سائزز میں پیش کیا گیا ہے، جن میں موبائل فونز کے لیے ہلکے ورژن سے لے کر پیچیدہ کاموں کے لیے بڑے ماڈلز شامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد طاقتور کمپیوٹر سسٹمز کے بغیر بھی اعلیٰ کارکردگی کی حامل مصنوعی ذہانت فراہم کرنا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسی ایپس تیار کی جا سکیں گی جو اے آئی فیچرز کو براہ راست ڈیوائس پر چلائیں گی، جس سے رفتار میں اضافہ، بہتر رازداری اور کئی صورتوں میں انٹرنیٹ کے بغیر استعمال ممکن ہوگا۔
ماہرین کے مطابق جیما 4 کو خاص طور پر ملٹی اسٹیپ ریزننگ یعنی مرحلہ وار پیچیدہ سوچ کے عمل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل بیک وقت متن، تصاویر، ویڈیوز اور آواز کو سمجھنے اور ان پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ 140 سے زائد زبانوں کی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے اپنے صارفین کے لیے جیمینی3 پرو پیش کردیا، اس کی حیران کن خصوصیات کیا ہیں؟
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل ایسے خودکار نظام بنانے میں مدد دے گا جو کم انسانی مداخلت کے ساتھ مختلف ٹولز سے رابطہ قائم کر کے خود فیصلے کرنے اور کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈلز کم وسائل استعمال کرتے ہوئے بڑے اے آئی سسٹمز جیسی کارکردگی دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جدید اے آئی کو مقامی سطح پر چلانے کے لیے اب بھی مخصوص ہارڈویئر اور تکنیکی مہارت درکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اوپن اے آئی ماڈلز کی آزاد دستیابی کے باعث ممکنہ غلط استعمال سے متعلق خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس کے لیے مؤثر ضابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔













