صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت مکمل طور پر ویڈیو لنک کے ذریعے منعقدہ کابینہ اجلاس میں 28 نکاتی ایجنڈے اور 4 اضافی نکات پر تفصیلی غور کے بعد متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت کابینہ کے اس 50ویں اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں یونیورسٹی آف اپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اس منصوبے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کی 55 خالی آسامیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے ماہانہ 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی حکومت کا وفاق کے ساتھ ورکنگ ریلیشن ہے، اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں، شفیع جان
اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پوسٹنگ اور ٹرانسفرز کے لیے نئی گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری بھی دی گئی، جس سے دور دراز علاقوں میں عملے کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
کابینہ نے محکمہ اوقاف کے لیے 229 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دی، جبکہ موجودہ حالات کے پیش نظر گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی 2 دن کی بنیادی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز پر بھی اصولی اتفاق کیا گیا۔
صحت کے شعبے میں اہم فیصلوں کے تحت سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے، 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کی آسامیاں تخلیق کرنے اور تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے کے لیے 993 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کابینہ نے 9 مئی کے مقدمات ختم کرنے کی منظوری دے دی
تھیلیسمیا میں مبتلا نادار بچوں کے علاج کے لیے فاطمید فاؤنڈیشن کو ایک کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر 70 سرکاری اسکولوں میں میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز شروع کرنے کی منظوری دی، جس پر 450 ملین روپے لاگت آئے گی اور 1650 طلبہ کو وظائف بھی دیے جائیں گے۔
کابینہ نے مختلف ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کی بھی منظوری دی، جن میں ڈی آئی خان کے علاقے پاروا میں اسپورٹس کمپلیکس کے لیے زمین کی خریداری، ویل چیئر کرکٹ کھلاڑیوں کی مالی معاونت، اور نیشنل باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کے لیے خصوصی گرانٹ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیوں نے ملک کو معاشی عدم استحکام سے دوچار کیا، شفیع جان
اجلاس میں مون سون سیزن سے قبل ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے محکمہ ریلیف کو 785 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ لوئر چترال کے متاثرہ خاندانوں کے لیے مزید 20 ملین روپے امداد کی بھی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے لیے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 27-2026 کی منظوری بھی دے دی، جبکہ 27 مستحق مریضوں کے علاج کے لیے مالی معاونت کی بھی منظوری دی گئی۔
معاون خصوصی کے مطابق صوبائی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن پر اب تک 60 فیصد تک کمی کی ہے، اور آئندہ بھی اخراجات میں کمی کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔













