امریکا کے مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے ایک قانون تجویز کیا ہے جس کا مقصد چین کے چپ سیکٹر کو نشانہ بنانا ہے اور بیجنگ کو چپ بنانے والے آلات کی برآمد پر مزید پابندیاں عائد کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں اقدامات شروع کردیے
اس مسودہ قانون، جسے میچ ایکٹ کہا گیا ہے کہ یہ ایک اسٹریٹجک اقدام ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے مسابقتی میدان میں امریکی بالادستی کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مسودہ قانون کے 2 اہم مقاصد
یہ قانون چینی کمپنیوں کو جدید چپ بنانے والے آلات حاصل کرنے سے روک دے گا جو وہ ملک میں خود نہیں بنا سکتیں۔ علاوہ ازیں قانون یہ بھی یقینی بنائے گا کہ امریکی اتحادی ممالک کی کمپنیاں بھی ان ہی برآمدی پابندیوں کے تابع ہوں جیسے امریکی کمپنیاں۔ اس اقدام سے بین الاقوامی مقابلے کو چین کی مارکیٹ میں ناجائز فائدہ حاصل کرنے سے روکا جائے گا۔
اس سے قبل جو بائیڈن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومتوں کے دوران بھی امریکا نے چین پر کئی بار برآمدی پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیے: چین کا پاکستان کی ٹیکسٹائل و لیدر صنعتوں کی اپ گریڈیشن میں تعاون کا اعلان
لیکن حالیہ پابندیاں قانون سازوں کی طرف سے آئیں ہیں۔ قانون سازوں کے مطابق وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں تاکہ چین کی غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کو نشانہ بنایا جا سکے خاص طور پر امیڑشن ڈیپ الٹرا وائلٹ (ڈی یو وی) لیتھوگرافز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جو جدید چپ سرکٹری پرنٹنگ کے لیے اہم ہیں۔
اس لیے تجویز کردہ قانون ایسے آلات کی فروخت کو چینی چپ بنانے والی کمپنیوں جیسے ایس ایم آئی سی، ہوا ہانگ، ہووائی، وائی ایم ٹی سی اور سی ایکس ایم ٹی کے لیے محدود کرے گا۔
یہ مخصوص سیکٹر فی الحال ڈچ کمپنی اے ایس ایم ایل کے زیر کنٹرول ہے جبکہ جاپان کی نیکون اس کا بنیادی حریف ہے۔
مزید پڑھیں: خطے میں کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا کلیدی کردار، چین کا اعتراف
موجودہ قوانین اب بھی اے ایس ایم ایل کو جدید آلات چین بھیجنے سے روکتے ہیں لیکن یہ پرانے ڈی یو وی آلات چین کو فروخت کرتی ہے۔ تاہم حالیہ قانون اس کی بھی اجازت نہیں دے گا۔













