بینکنگ ایس ایم ایس الرٹس مہنگے کیوں؟ ٹیلی کام سیکٹر نے وجہ بتا دی

ہفتہ 4 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 ملک کی معروف ٹیلی کام کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ بینکاری لین دین سے متعلق ایس ایم ایس الرٹس کے لیے صارفین سے وصول کی جانے والی فیس کا تعین بینک کرتے ہیں، نہ کہ ٹیلی کام آپریٹرز۔

 ٹیلی کام کمپنی یوفون، جاز اور زونگ کی جانب سے یہ وضاحت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات میں حالیہ بحث کے بعد سامنے آئی ہے۔

جمعہ کو جاری بیان میں انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز نے بتایا کہ عموماً بینک براہِ راست ٹیلی کام نیٹ ورکس سے منسلک نہیں ہوتے بلکہ ایس ایم ایس الرٹس تیسرے فریق کے لائسنس یافتہ ایگریگیٹرز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ نے بینکنگ موبائل ایپ چارجز کا نوٹس لے لیا

یہ ایگریگیٹرز پیغامات کی ترسیل، روٹنگ اور دیگر تجارتی امور کو سنبھالتے ہیں، جس کے بعد پیغام ٹیلی کام کمپنیوں تک پہنچتا ہے۔

اس طرح ٹیلی کام آپریٹرز صرف ایک بڑے نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور صارفین پر عائد حتمی چارجز پر ان کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہوتا۔

بیان کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں کارپوریٹ معاہدوں کے تحت بلک میسجنگ سروسز فراہم کرتی ہیں، چاہے وہ براہِ راست ہوں یا ایگریگیٹرز کے ذریعے۔

 مزید پڑھیں: چیئرمین پی ٹی اے نے ایمل ولی سے چرس بھرا سیگریٹ مانگ لیا، اجلاس میں جھڑپ

تاہم بینک اپنے صارفین کے لیے قیمتوں کا تعین خود کرتے ہیں، جس میں ماہانہ ایس ایم ایس الرٹ فیس بھی شامل ہے، اور انڈسٹری ذرائع کے مطابق یہ فیس اکثر اصل لاگت سے زیادہ ہوتی ہے۔

آپریٹرز نے زور دیا کہ تمام چارجز کا ذمہ دار صرف ٹیلی کام کمپنیوں کو ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ یہ پورا نظام متعدد مراحل پر مشتمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کارپوریٹ کلائنٹس، بشمول بینکوں اور ایگریگیٹرز، کے ساتھ شفاف اور زیادہ حجم پر مبنی قیمتوں کے ماڈلز کے تحت معاہدے کرتے ہیں۔

 مزید پڑھیں: پیکا ایکٹ ترامیم اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل سینیٹ سے بھی منظور، اپوزیشن کا احتجاج

ٹیلی کام کمپنیوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ سینیٹ کمیٹی کو ٹرانزیکشن کی تعداد اور سروس ریٹس سمیت  تفصیلی ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ان کی جانب سے کوئی اضافی چارجنگ نہیں ہو رہی۔

پاکستان میں ٹیلی کام خدمات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی نگرانی میں ہیں، اور آپریٹرز نے تمام ضوابط کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے۔

انڈسٹری نمائندگان نے محفوظ ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ اور مالی شمولیت بڑھانے کے عزم کو بھی دہرایا، جبکہ ریگولیٹرز اور پالیسی سازوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے بینک صارفین پر عائد ایس ایم ایس چارجز میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو لاگت کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟