ملک کی معروف ٹیلی کام کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ بینکاری لین دین سے متعلق ایس ایم ایس الرٹس کے لیے صارفین سے وصول کی جانے والی فیس کا تعین بینک کرتے ہیں، نہ کہ ٹیلی کام آپریٹرز۔
ٹیلی کام کمپنی یوفون، جاز اور زونگ کی جانب سے یہ وضاحت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات میں حالیہ بحث کے بعد سامنے آئی ہے۔
جمعہ کو جاری بیان میں انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز نے بتایا کہ عموماً بینک براہِ راست ٹیلی کام نیٹ ورکس سے منسلک نہیں ہوتے بلکہ ایس ایم ایس الرٹس تیسرے فریق کے لائسنس یافتہ ایگریگیٹرز کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ نے بینکنگ موبائل ایپ چارجز کا نوٹس لے لیا
یہ ایگریگیٹرز پیغامات کی ترسیل، روٹنگ اور دیگر تجارتی امور کو سنبھالتے ہیں، جس کے بعد پیغام ٹیلی کام کمپنیوں تک پہنچتا ہے۔
اس طرح ٹیلی کام آپریٹرز صرف ایک بڑے نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور صارفین پر عائد حتمی چارجز پر ان کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہوتا۔
بیان کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں کارپوریٹ معاہدوں کے تحت بلک میسجنگ سروسز فراہم کرتی ہیں، چاہے وہ براہِ راست ہوں یا ایگریگیٹرز کے ذریعے۔
مزید پڑھیں: چیئرمین پی ٹی اے نے ایمل ولی سے چرس بھرا سیگریٹ مانگ لیا، اجلاس میں جھڑپ
تاہم بینک اپنے صارفین کے لیے قیمتوں کا تعین خود کرتے ہیں، جس میں ماہانہ ایس ایم ایس الرٹ فیس بھی شامل ہے، اور انڈسٹری ذرائع کے مطابق یہ فیس اکثر اصل لاگت سے زیادہ ہوتی ہے۔
آپریٹرز نے زور دیا کہ تمام چارجز کا ذمہ دار صرف ٹیلی کام کمپنیوں کو ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ یہ پورا نظام متعدد مراحل پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ کارپوریٹ کلائنٹس، بشمول بینکوں اور ایگریگیٹرز، کے ساتھ شفاف اور زیادہ حجم پر مبنی قیمتوں کے ماڈلز کے تحت معاہدے کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پیکا ایکٹ ترامیم اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل سینیٹ سے بھی منظور، اپوزیشن کا احتجاج
ٹیلی کام کمپنیوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ سینیٹ کمیٹی کو ٹرانزیکشن کی تعداد اور سروس ریٹس سمیت تفصیلی ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ان کی جانب سے کوئی اضافی چارجنگ نہیں ہو رہی۔
پاکستان میں ٹیلی کام خدمات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی نگرانی میں ہیں، اور آپریٹرز نے تمام ضوابط کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے۔
انڈسٹری نمائندگان نے محفوظ ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ اور مالی شمولیت بڑھانے کے عزم کو بھی دہرایا، جبکہ ریگولیٹرز اور پالیسی سازوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے بینک صارفین پر عائد ایس ایم ایس چارجز میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو لاگت کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔













