صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر کا کہنا ہے کہ معاملات چاہے جو بھی ہوں ایران کا سعودی عرب پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی لازوال ہے، امیر مقام
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہمیں سعودیہ جانے کا کہیں گئے تو ہم احتجاج نہیں بلکہ شکریہ ادا کریں گے۔
علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ ہم حرمین شریفین کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران پر امریکا و اسرائیل نے حملہ لیکن اس کے بدلے ایران نے خلیجی ریاستوں پر حملے کرنا شروع کر دیے جو درست عمل نہیں۔
مزید پڑھیے: سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور
علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ یہ جنگ ختم ہوگی تو بہت سے حقائق سامنے آئیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایران نے سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملہ کیا تو کیا وہ کوئی امریکی اڈا تھا؟
ہم سعودیہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے
علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ جمعیت اہلحدیث پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی اور ہماری پوری قوم اس کے ساتھ ہے، ایران نے رد عمل میں سعودیہ پر حملے کیے جو قابل مذمت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے آرمی چیف جب کہیں گے ہم چلے جائیں گے، ہمیں آج اجازت دیں اور فلسطین کی سرحد کھولیں۔
علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ جمعیت اہلحدیث پاکستان سے منسلک لاکھوں افراد فلسطین میں جہاد کے لیے تیار ہیں مگر جہاد کا اعلان ریاست کرتی ہے اور اس نے ایسا کردیا تو یہ ہم سب پر فرض ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کا دفاعی معاہدہ موجود ہے اگر آرمی چیف کہتے ہیں کہ میں سرحدیں کھولتا ہوں تو جمعیت اہلحدیث پاکستان کے لاکھوں لوگ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے بخوشی جانوں کا نذرانہ پیش کردیں گے۔
حال ہی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کے بعد شیعہ علما کی تنقیدی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ علما نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں فیلڈ مارشل نے کہا کہ اگر ایران سے زیادہ محبت ہے تو وہاں چلے جاؤ۔ علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ فیلڈ مارشل اگر ہم سے کہتے کہ سعودیہ چلے جاؤ و ہم تو کوئی احتجاج کرنے کے بجائے ان کا شکریہ ادا کرتے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف
علامہ ہشام الٰہی ظہیر نے کہا کہ سعودی عرب بہت تحمل مزاجی کا ثبوت دے رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اگر اسرائیل تک ہی محدود رہتا تو یہ مذکرات جلدی ہو جاتے مگر اس نے سعودیہ اور دیگر خلیجی ریاستوں پر حملے شروع کر دیے اور اگر اس نے یہ عمل جاری رکھا تو پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا ہی پڑے گا۔











