سہیل آفریدی کا لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان، کیا اندرونی اختلافات کی موجودگی میں یہ ممکن ہوسکے گا؟

ہفتہ 4 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایک ایسے وقت میں عمران خان کی رہائی کے لیے راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان کیا ہے جب پارٹی میں ان کی حکومت کے خلاف کرپشن اور ترقیاتی کام نہ کے کرنے کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لکھ کر دیتا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی 9 اپریل کو جلسہ کرے گی نہ اس میں جلسہ کرنے کی صلاحیت ہے، شیر افضل مروت

سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پاکستان تحریک انصاف 9 اپریل کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کرے گی جس میں بڑی تعداد میں ورکرز شرکت کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے عمران خان کی رہائی کے لیے تمام قانونی راستے اپنائے لیکن اب احتجاج کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔

انہوں نے کہا کہ 9 اپریل کے جلسے کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کیا جائے گا تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اجازت نہ ملی تو پھر ہر جگہ احتجاج ہوگا۔

راولپنڈی میں مری روڈ پر واقع لیاقت باغ پاکستان کی تاریخ میں اپنی ایک اہم حیثیت رکھتا ہے جہاں 3 بڑے سیاسی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔

ملک کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ اس وقت کے کمپنی باغ اور موجودہ لیاقت باغ، راولپنڈی میں ایک پرہجوم اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں جلسہ، 5 مرتبہ کب اور کیوں منسوخ ہوتا رہا؟

23 مارچ 1973 کو عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ولی خان کی قیادت میں ہونے والے ایک عوامی اپوزیشن جلسے پر بھی حملہ ہوا جس میں اے این پی کے درجنوں کارکن جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ ولی خان اس حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔

اور آخر میں لیاقت باغ ایک بار پھر خون میں رنگ گیا جب سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو کو اس وقت شہید کیا گیا جب وہ وہاں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جا رہی تھیں۔

9 اپریل کے جلسے کے لیے لیاقت باغ ہی کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ملک کے کسی بھی علاقے میں جلسہ کر سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ کا ماننا ہے کہ راولپنڈی کے تاریخی پارک سے پی ٹی آئی نئے سرے سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے لیے سہیل آفریدی پھر سرگرم، برف پگھلے گی؟

ان کا کہنا ہے کہ لیاقت باغ ایک پارک نہیں بلکہ ایک تاریخی جگہ ہے جہاں ملک کے لیے لیڈرز نے قربانیاں دی ہیں، ان کا خون اسی جگہ بہا ہے اور ہم اسی تاریخی مقام سے اپنی اس جدوجہد کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ لیاقت باغ میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر لیاقت علی خان، بے نظیر بھٹو اور عمران خان تک سب نے جلسے کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات بھی سچ ہے کہ لیاقت باغ کی ایک خونیں تاریخ بھی ہے اور اسی بنا پر اس کی تاریخی اہمیت بھی زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی نے نوکری بچانے کے لیے رہائی فورس کا اعلان کیا، خواجہ آصف

سینیئر صحافی و تجزیہ کار طارق وحید کا خیال ہے کہ سہیل آفریدی نے اداروں اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے راولپنڈی خصوصاً لیاقت باغ کا انتخاب کیا ہے۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جذباتی اور مزاحمتی سیاست کے حامی ہیں اور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے لیاقت باغ کا انتخاب کیا۔

طارق وحید نے کہا کہ لیاقت باغ کی ایک خونیں تاریخ بھی ہے جہاں لیاقت علی خان، بے نظیر بھٹو اور اے این پی کے ورکرز کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: ’ایک طرف عمران خان کی بیماری اور دوسری طرف ٹک ٹاک کا شوق‘، سہیل آفریدی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

پشاور کے سینیئر صحافی لحاظ علی کا خیال ہے کہ لیاقت باغ جلسے کا اعلان سہیل آفریدی کی جانب سے ورکرز کی توجہ ڈی چوک سے ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔

لحاظ علی نے بتایا کہ پی ٹی آئی ورکرز قیادت پر ڈی چوک مارچ کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ سہیل آفریدی کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ صوبے سے نکل نہیں سکتے اس لیے لیاقت باغ جلسے کا اعلان اسی تاثر کو ختم کرنے کی بھی ایک کوشش ہے۔

کیا سہیل آفریدی کامیاب جلسہ کر پائیں گے؟

اکرام کٹھانہ کا کہنا ہے کہ پارٹی کارکنان تیار ہیں اور بڑی تعداد میں عمران خان کے لیے نکلیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 9 اپریل ملکی تاریخ میں وہ سیاہ دن ہے جس دن ایک جمہوری حکومت کو ہٹایا گیا اور عمران خان کو جیل میں ڈالا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 9 اپریل کے جلسے میں پورے ملک سے لاکھوں ورکرز شرکت کریں گے۔

اکرام کٹھانا نے دعویٰ کیا کہ اگر لیاقت باغ جلسے کی اجازت ملی اور جلسہ ہوا تو یہ ایک تاریخی جلسہ ہوگا جبکہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں پورے ملک میں احتجاج ہوگا۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

لیکن طارق وحید اور لحاظ علی کی رائے مختلف ہے۔ طارق وحید نے بتایا کہ انہیں نہیں لگتا کہ تحریک انصاف اب ویسا بڑا جلسہ کر سکے گی جیسا ماضی میں کیا کرتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 2،3 سال پہلے کی اور آج کی تحریک انصاف میں بہت فرق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورکرز کا قیادت پر بھروسہ کم ہو گیا ہے اور علی امین گنڈاپور کے دور کے جلسے سب کو یاد ہیں۔

طارق وحید کا کہنا تھا کہ پہلے تو پنجاب حکومت ہی شاید جلسے کی اجازت نہ دے اور اگر دے بھی دی تو پنجاب سے لوگوں کا نکلنا مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس جلسے کا انحصار خیبر پختونخوا پر ہوگا اور اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وہاں سے کتنی بڑی تعداد میں لوگ جلسے کے لیے نکلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟

لحاظ علی کا خیال ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے سے پہلے جذباتی تھے اور ڈی چوک کا نعرہ لگاتے تھے لیکن مسند سنبھالنے کے بعد انہیں اندازہ ہو گیا کہ ڈی چوک جانا ورکرز اور خود اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی پر پارٹی ورکرز اور عمران خان کی بہنوں کا بھی دباؤ ہے اور لیاقت باغ جلسے کا اعلان اسی دباؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

لحاظ علی نے مزید بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنے 19 ماہ کے دورِ اقتدار میں 5 بار اسلام آباد جانے کی کوشش کی تھی اور اب سہیل آفریدی پر دباؤ ہے کہ وہ احتجاج کے لیے دارالخلافے کا رخ کیوں نہیں کر رہے۔

سہیل آفریدی کی جانب سے جلسے کے اعلان اور پھر لیاقت باغ کے انتخاب پر لحاظ علی نے کہا کہ بنیادی طور پر سہیل آفریدی صوبے سے نکلنا چاہتے تھے اس لیے ڈی چوک کے بجائے لیاقت باغ کا انتخاب کیا جو سیاسی طور پر ایک تاریخی جگہ ہے۔

مزید پڑھیے: دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری، سیکیورٹی فورسز کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

انہوں نے کہا کہ لیاقت باغ میں پنجاب سے بھی ورکرز کے پہنچنے کی امید ہے اور خیبر پختونخوا سے بھی لوگ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت اس جلسے کی اجازت دیتی بھی ہے یا نہیں۔

لحاظ علی نے بتایا کہ کچھ ایسی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق سہیل آفریدی نے ارباب اختیار کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ صرف ایک سیاسی جلسہ ہوگا جس میں وہ محض سیاسی بیان دیں گے اور اس سے آگے کچھ نہیں کیا جائے گا۔

اندرونی اختلافات سے جلسے پر کیا اثر پڑے گا؟

سہیل آفریدی نے ایک ایسے وقت میں جلسے کا اعلان کیا ہے جب پارٹی کے اندر حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایک ورکر خالد خان نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کے دوران ایم این اے عاطف خان نے اپنی ہی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا اور حکومت پر بدترین کرپشن کے الزامات لگائے۔

مزید پڑھیے: کال دوں تو کوئی نہیں روک سکتا،مگر تصادم کی سیاست نہیں چاہتے، سہیل آفریدی

خالد خان کے مطابق پارٹی میں سینیٹ کے ٹکٹ پر بھی اختلافات ہیں اور الزام لگایا گیا ہے کہ سہیل آفریدی اپنے من پسند افراد کو لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ پشاور کے ورکرز جلد وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاج کریں گے۔

تحریک انصاف کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ اس وقت پارٹی میں شدید اختلافات ہیں اور سہیل آفریدی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ورکرز بیحد ناراض ہیں اور اندرونی گروپنگ کے باعث کوئی بھی نکلنے کو تیار نہیں ہے۔

رہنما نے بتایا کہ 9 اپریل کے جلسے کا اعلان تو ہو گیا لیکن اس پر کسی سے مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلسے کا اعلان مرکزی قیادت کو کرنا چاہیے تھا لیکن سہیل آفریدی نے خود ہی کردیا۔

تحریک انصاف کے رہنما نے مزید بتایا کہ ابھی تک جلسے کے حوالے سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی صوبائی سطح پر قائدین اور اراکین کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن مواد پھیلانے کا الزام، سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باعث سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کا عمل بھی روک دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

آج شہباز شریف نہیں ’شاباش شریف‘، کامیاب سفارتکاری پر پاکستانی فنکار بھی میدان میں

اسلام آباد: سری نگر ہائی وے پر ڈائیورشنز، شہریوں کو اضافی وقت لے کر سفر کی ہدایت

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟