گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان اور سعودی عرب نے باہمی تعلقات کو اقتصادی اور دفاعی شعبوں سے بڑھا کر کئی شعبوں تک بڑھا دیا ہے اور اب یہ دونوں ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے بھی مشترکہ کاوشیں کررہے ہیں اور دونوں ملکوں کے مؤقف میں بہت یکسانیت ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے تنازعات، اور توانائی کی گلوبل مارکیٹ کے تناظر میں دونوں ممالک کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ اور خلیجی خطے میں مختلف تنازعات نے پاکستان اور سعودی عرب کے کردار کو عالمی سطح پر مزید اہم بنا دیا ہے، جس کا سب سے بڑا مظاہرہ گزشتہ سال 17 ستمبر کو دیکھنے میں آیا جب پاکستان اور سعودی عرب نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی پالیسیوں میں کئی مشترکات ہیں جن کا جائزہ ہم اِس آرٹیکل میں لیں گے۔
ایران۔ اسرائیل۔ امریکا جنگ میں پاکستان اور سعودی عرب کا کردار
سب سے پہلے یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے کہ حالیہ جنگ میں ایران کی جانب سے سعودی عرب میں کئی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن سعودی عرب نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب نہیں دیا۔ دوسری طرف سعودی عرب نے اِس جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مصالحانہ کوششوں کی مکمل حمایت کی۔ 30 مارچ کو پاکستان میں چار مُلکی مذاکرات ہوئے جن میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، مصر، اور ترکیے کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی جس میں پاکستان کی مصالحانہ کوششوں کو مکمل حمایت اور تعاون فراہم کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن، پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ وژن ہے۔ اسی وژن کے تحت پاکستان اور سعودی عرب نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کے تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارتکاری اور مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کی پالیسی مستقل طور پر غیر جانبدار مگر فعال سفارتکاری رہی ہے، جبکہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی میں اعتدال اور مفاہمت کو فروغ دیا ہے۔ یہی ہم آہنگی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔
دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کی فوجی تربیت اور مشاورت سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہتا ہے۔ یہ تعاون جارحیت کے بجائے دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ پاک سعودی میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ اس تعاون کی اہم مثال ہے۔
یمن جنگ میں متوازن پالیسی
یمن خانہ جنگی کے دوران پاکستان نے واضح موقف اپنایا کہ فوجی مداخلت نہیں کی جائے گی، لیکن سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کے لیے دو طرفہ تعلقات برقرار رہے۔ اس حکمتِ عملی نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا، جس سے سعودی عرب کے پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا، کیونکہ وہ خطے میں سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
فلسطین اور کشمیر پر یکساں مؤقف
پاکستان اور سعودی عرب فلسطین کے مسئلے پر مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک دو ریاستی حل کے حامی ہیں، اور یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اسرائیلی اقدامات کی مذمت اور فوری جنگ بندی کی حمایت بھی مشترکہ مؤقف کا حصہ ہے۔
اسی طرح کشمیر کے معاملے میں بھی دونوں ممالک کا مؤقف یکساں ہے۔ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا تحفظ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری اور پُرامن مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل۔
مشکل وقت میں سعودی عرب کا ساتھ
پاکستان جب بھی مالی مُشکلات کا شکار ہوا ہے سعودی عرب ہمیشہ فرسٹ ریسپانڈر کے طور پر سامنے آیا۔ 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے، تو سعودی عرب نے نہ صرف فوری تیل کی فراہمی کی بلکہ مالی امداد اور عالمی سطح پر سفارتی حمایت بھی دی، جس سے پاکستان کی اقتصادی اور سیاسی مشکلات میں کمی آئی۔ اسی طرح کورونا وبا کے دوران سعودی عرب نے طبی امداد، مالی سہولت اور پاکستانی محنت کشوں کے تحفظ میں تعاون کیا۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کا تعلق مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دینے پر مبنی ہے۔
عالمی سطح پر مشترکہ مؤقف
او آئی سی اور اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر بھی پاکستان اور سعودی عرب نے عالمی تنازعات کے بارے میں ہمیشہ مشترکہ مؤقف اپنایا جس میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے آغاز، انسانی امداد اور طاقت کے استعمال سے گریز پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک خطے میں امن اور استحکام کے لیے ذمہ دار اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں، اور عالمی برادری کے سامنے ایک مثبت مثال قائم کررہے ہیں۔
عالمی امن کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ کوششیں
پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق صرف دو طرفہ مفادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی وژن کا حصہ ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کو پرامن، مستحکم اور خوشحال خطہ بنانے کی کوشش شامل ہے۔ تاریخی تعاون، مشترکہ مؤقف اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے دونوں ممالک عالمی سطح پر امن کے لیے ایک صفحے پر کھڑے ہیں۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ کا امن ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ہے۔ ان تمام پیچیدہ مراحل میں پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ امن کی راہ میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چاہے وہ میزبان اجلاس ہو، چین کو اعتماد میں لینا ہو یا سعودی عرب کے ساتھ ہم آہنگی۔
پاکستان اور سعودی عرب دونوں نے ہمیشہ ایک اصولی اور متوازن پالیسی کو ترجیح دی ہے جس میں مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر نہ صرف خطے کے امن کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک مثبت مثال بھی قائم کرتا ہے کہ کس طرح مسلم دنیا کے اہم ممالک عالمی امن کے عمل میں ایک ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔












