سی این این کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین عالمی اسلحہ معاہدوں کی کمزور ہوتی صورتحال کے دوران خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے انفراسٹرکچر کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر ایک نئی اسلحہ دوڑ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین کے صوبہ سیچوان میں واقع ‘سائٹ 906’ نامی حساس تنصیب میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تعمیراتی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 میں مقامی دیہاتیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا اور انہیں صرف یہ بتایا گیا کہ یہ ‘ریاستی راز’ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چین نے امریکا کے خفیہ جوہری تجربات کے الزامات کی تردید کردی
3 سال بعد اسی مقام پر جدید عمارتیں قائم ہو چکی ہیں جو چین کے اہم جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز کی معاونت کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تائید کرتی ہے کہ چین کئی دہائیوں کے بعد اپنی سب سے بڑی جوہری جدید کاری مہم چلا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ٹرمپ اگلے ماہ بیجنگ کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس حساس معاملے پر بات چیت کریں گے۔

سی این این کے مطابق سائٹ 906 میں ایک غیر معمولی بڑا گنبد نما ڈھانچہ تعمیر کیا گیا ہے، جو تقریباً 36 ہزار اسکوائر فٹ پر پھیلا ہوا ہے اور جسے کنکریٹ اور اسٹیل سے مضبوط بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں تابکار مواد جیسے یورینیم اور پلوٹونیم کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید نظام نصب ہیں، جن میں ریڈی ایشن مانیٹرز، بلاسٹ ڈورز اور وینٹی لیشن سسٹم شامل ہیں۔
مزید برآں اس تنصیب کو 3 سطحی سیکیورٹی حصار میں رکھا گیا ہے جبکہ قریبی پہاڑ میں سرنگ بھی موجود ہے، جو اس کی حساس نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو چینی سرکاری دستاویزات میں ایکس ٹی جے 0001 کا نام دیا گیا ہے۔
سی این این کے مطابق سائٹ 906 کو دیگر جوہری تنصیبات جیسے ‘سائٹ 931’ سے نئی سڑکوں اور ریلوے نظام کے ذریعے جوڑا جا رہا ہے۔ اس توسیع کے لیے قریبی دیہات بائٹو اور داشان کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایک بڑے پیمانے پر جوہری انفراسٹرکچر کی بحالی اور توسیع کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین اس وقت دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تیز ترین رفتار سے پیداوار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور اس کے پاس 600 سے زائد وارہیڈز موجود ہیں، تاہم یہ تعداد اب بھی امریکا اور روس کے مقابلے میں کم ہے۔
چینی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جوہری پالیسی دفاعی نوعیت کی ہے اور وہ ‘پہلے استعمال نہ کرنے’ کے اصول پر قائم ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق تنصیبات کے غیر معمولی ڈیزائن اور وسیع پیمانے پر تعمیرات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چین اپنے جوہری پروگرام میں بڑی سطح پر تبدیلیاں لا رہا ہے۔

مزید یہ کہ ‘سائنس سٹی’ نامی تحقیقی مرکز میں بھی بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی گئی ہے، جہاں 600 سے زائد عمارتیں گرا کر نئی سہولیات قائم کی گئیں۔ یہ علاقہ چین کے جوہری پروگرام کا مرکزی تحقیقی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چین کی اس تیز رفتار پیش رفت سے نہ صرف عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھے گی بلکہ ایک نئی اور زیادہ پیچیدہ اسلحہ دوڑ بھی شروع ہو سکتی ہے، جس میں چین تیسری بڑی جوہری طاقت کے طور پر اہم کردار ادا کرے گا۔












