اسلام آباد: پیٹرول مہنگا ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے برقرار رکھنے کا فیصلہ

ہفتہ 4 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے بعد اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کے کرائے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں اسلام آباد ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے بھی اپنے تمام اراکین کے لیے ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے شہر میں چلنے والی ہائی ایس وینز کے کرایوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ شیڈول سے زیادہ کرایہ وصول کرنے والی گاڑی اور ڈرائیور کو متعلقہ تھانے منتقل کیا جائے گا۔

چئیرمین اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ کرایہ وصول کرنے والی ٹرانسپورٹ کی نشاندہی کریں۔

شہری اپنے شکایات کنٹرول روم نمبر 051-9108084 پر درج کروا سکتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر عرفان میمن نے کہاکہ خلاف ورزی کرنے والی گاڑی کا نمبر لازمی طور پر کنٹرول روم پر رپورٹ کیا جائے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے ایک ماہ کے لیے اسلام آباد میں چلنے والی سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ فری کردی ہے، جبکہ پنجاب میں 3 ماہ کے لیے اس سہولت کا اعلان کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟