کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں

اتوار 5 اپریل 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ظفراللہ پوشنی 1951 میں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہونے والوں میں شامل تھے۔ انہوں نے ایامِ اسیری کی کتھا ’زندگی زنداں دلی کا نام ہے‘ کے عنواٖن سے ٖلکھی جسے زندانی ادب میں اہم مقام حاصل ہے۔ ’دوڑتا چلا گیا‘ ان کا ناول ہے۔ معروف انگریزی جریدے ‘ویو پوائنٹ’ میں ان کے چند مضامین بھی میری نظر سے گزرے جن میں سے ایک ذوالفقار علی بھٹو کی خواتین میں سیاسی مقبولیت کے موضوع پر تھا: ’لیڈیز مین، بھٹو۔‘

یہ 13 اگست 1978 کو شائع ہوا، اس وقت بھٹو جیل میں تھے۔ ظفر اللہ پوشنی نے مضمون کا آغاز اپنے کزن کے تذکرے سے کیا ہے جو 1970 کے الیکشن میں بھٹو کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ لاہور کے اس حلقے میں بھٹو نے فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کو آسانی سے ہرا دیا تھا۔ پوشنی کے کزن نے انہیں خواتین ووٹروں میں بھٹو کی مقبولیت کے بارے میں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپر مڈل کلاس کے گلبرگ جیسے علاقے میں مردوں میں جاوید اقبال کی سپورٹ موجود تھی لیکن خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھٹو کے حق میں نکلی تھی۔ پوشنی کے کزن کی دانست میں اس پذیرائی کی وجہ یہ تھی کہ بھٹو نے معاشرے کے ستم رسیدہ لوگوں کو متوجہ کیا تھا اور ہمارے سماجی نظام میں مجموعی طور پر خواتین بری طرح پسی ہوتی ہیں سو ان کے لیے اس رہنما کی حمایت کرنا فطری تھا جس نے پسماندہ طبقے کی زندگی میں بہتری لانے کا وعدہ کیا ہو۔

پوشنی نے اپنے خاندان کے کم از کم 12 جوڑوں میں سے مردوں کے پیپلز پارٹی کی مخالفت میں جبکہ ان کی بیویوں کے بھٹو کو ووٹ دینے کے بارے میں بھی بتایا۔ یہ سب اپر مڈل کلاس گھرانے تھے۔

خواتین میں بھٹو کی از حد پسندیدگی کے بارے میں جان کر مجھے فیصل آباد میں مقیم اپنی خالہ کا خیال آیا جنہوں نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ 1977 میں ان کے شوہر نے انہیں سختی سے حکم دیا تھا کہ پیپلز پارٹی کو کسی صورت ووٹ نہیں ڈالنا لیکن انہوں نے نہ صرف ’نافرمانی‘ کرتے ہوئے حق رائے دہی کا آزادانہ استعمال کیا بلکہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی بات چھپائی بھی نہیں۔ اسی طرح میں نے اپنی ایک اور خالہ کو بھی ہمیشہ ذوالفقار علی بھٹو کا دم بھرتے سنا۔

ظفر اللہ پوشنی نے لکھا کہ بھٹو دور کی خرابیوں کے باوجود بھٹو کی شخصیت اور ان کے حقوقِ نسواں کا حامی ہونے کی وجہ سے خواتین ان کے لیے نرم گوشہ رکھتی تھیں۔

یہ شہروں میں بھٹو کی شہرت کا احوال ہے جب انہیں پھانسی نہیں ہوئی تھی، دیہات میں ان کی مقبولیت شہروں کی بہ نسبت کہیں زیادہ تھی جس میں ان کے عدالتی قتل کے بعد مزید اضافہ ہوا۔

اردو فکشن میں اس کی ایک مثال معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ کے ناول ’ڈاکیا اور جولاہا‘ سے ملتی ہے۔ اس ناول میں مرکزی کردار نتالیہ خطوط کے ذریعے اپنی کہانی سناتی ہے۔

تارڑ صاحب کا یہ کہنا ہے کہ نہ صرف یہ حقیقی کردار ہے بلکہ خطوط بھی اصلی ہیں جنہیں انہوں نے صرف ایڈٹ کیا ہے۔ آستانہ رومی کے خانقاہی ماحول میں پلی بڑھی نتالیہ کا گدی نشیں نانا سے پیار دلار کا رشتہ ہے۔ وہ ان کی چہیتی پتری ہے جس نے روسی ادب سے ذہنی افق وسیع کیا ہے۔ اس مطالعے کا سب سے بڑا فیضان اس کے سوال اٹھانے کی جرات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ضیاالحق اس کے بابا کے مرید ہیں۔ اس لیے جب وہ دربار پر آتے ہیں تو نانا کو نواسی کے تند سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک جگہ ضیا کا تذکرہ نام کے بغیر ہے لیکن اشارے اتنے واضح ہیں کہ ان کی صورت صاف پہچانی جاتی ہے:

’یہ وہی دن تھےجب بابا کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ان زمانوں کا ایک حکمران اپنی نقلی بتیسی پر بمشکل اپنے ہونٹ پھیلائے اپنی عیار مسکراہٹ کو بمشکل سمیٹتا مونچھیں سنوارتا، آستانہ رومی میں حاضر ہوا۔

بہت روز بعد پتری نے بابا کی سفید داڑھی تلے جو فراخ سینہ تھا اس پر سر رکھ کر اتنے آنسو بہائے کہ ان کے لبادے کو گیلا کرتے ہوئے وہ ان کے سفید بالوں تک پہنچے اور اس نے سسکیاں لیتے ہوئے ان سے پوچھا۔ ’بابا آپ نے اس درے لگانے والے اور پھانسیاں چڑھانے والے بہروپیے کو کیوں آستانے میں آنے دیا۔‘ تو بابا نے زندگی میں پہلی بار شرمندگی سے کہا:

’پتری اسے میں نے تو نہیں بلایا تھا۔ وہ خود آیا تھا۔‘

’آپ نے اسے کیوں آنے دیا تھا؟‘

’آستانے پر کوئی بھی آسکتا ہے پتری۔‘

’چاہے وہ بہروپیا ہو۔‘

’ہاں، کہ یہ فیصلہ کرنے والوں میں سے ہم نہیں ہو سکتے کہ کون روپ میں ہے، کون بہروپ میں۔ آج کے روپ کل کے بہروپ ہیں اور آج کے بہروپ کل کے روپ ہوسکتے ہیں۔ ہم فیصلہ کرنے والوں میں سے نہیں ہوسکتے۔‘

’ہو سکتے ہیں بابا۔ ہم ہی فیصلہ کرنے والوں میں سے ہیں، اگر ہمیں اختیار نہیں تو اور کس کو ہے۔‘

’تو سیانی ہوگئی ہے پتری۔‘ بابا نے اس کے گیلے رخساروں پر ایک بوسہ دیا۔ ’تو تلاش میں ہے، اور یہ جان لے کہ آج جو فیصلے ہو رہے ہیں وہ کل کو باطل ہو جائیں گے۔‘

ضیاالحق دربار کی مسجد کے افتتاح کے لیے آئے تو بابا کے سامنے نتالیا کا ردعمل زیادہ سخت لفظوں میں سامنے آتا ہے:

’ضیا الحق کو دربار پر بلانا حسینیت نہیں یزیدیت کا ساتھ دینا ہے۔‘

ان سب باتوں سے ڈکٹیٹر کی ذات سے نتالیہ کی شدید ناپسندیدگی ظاہر ہوتی ہے لیکن دوسری طرف مارشل لا دور کی گھٹن بھری فضا، دیہاتی خواتین کے شعور اور بھٹو سے ان کی محبت کا بھی اسے ادراک ہے:

’ایسا لگتا ہے کہ فوجی بوٹوں نے کوڑوں اور مارشل لا کے سر پر لوگوں کے ہونٹ سی دیے ہیں، پتھر بنا دیے ہیں، لیکن کب تک؟ مجھے امید ہے کہ ایک نہ ایک دن آستین کا لہو ضرور پکارے گا۔ البتہ اس بات کا مجھے کامل یقین ہے کہ الیکشن ہوئے تو ہمارے گاؤں سے سوائے ملاؤں کے دو چار ووٹوں کے اور کوئی ووٹ کم از کم اتحاد کو ہرگز نہ ملے گا۔ عورتیں ابھی تک اس شہید کے لیے روتی ہیں اور اسے بھولتی نہیں ہیں حالاں کہ یہ سب غیر سیاسی محنت کش لوگ ہیں جنہیں اس نے شاید کچھ بھی نہیں دیا تھا، ماسوائے اس شعور اور احساس کے کہ وہ بھی انسان ہیں، ایک طاقت ہیں، برابری کا حق رکھتے ہیں اور مانگ سکتے ہیں اور یہی اس کا کارنامہ ہے کہ اس نے جان دے دی مگر لوگوں کو یوں جگا دیا ہے کہ اب وہ کبھی نہ سو سکیں گے۔ ہر عورت تک سیاست کی بات کرتی ہے۔ کھیتوں میں کام کرنے یا گوبر تھاپنے والی جاہل بے خبر عورت بھی۔‘

نثر سے اب نظم کی طرف آجاتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں منظومات کا سلسلہ ایوب کابینہ سے نکلنے کے بعد شروع ہوا جس میں ان کی پھانسی کے بعد درد اور تخلیقی رنگ شامل ہوئے۔ مثلاً پنجابی میں نسرین انجم بھٹی کے درد انگیز نالے نے دلوں کو چیر کر رکھ دیا۔

نسرین انجم بھٹی کے انتقال کے بعد شائع ہونے والے مجموعہ کلام ’تیرا لہجہ بدلنے تک‘ کا دل گداز دیباچہ مستنصر حسین تارڑ نے ’اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے‘ کے عنوان سے لکھا۔ اس میں شاعرہ کی بھٹو سے محبت کا حوالہ موجود ہے:

’وہ بھٹو کی شیدائی ہی نہیں ایک شیدائن تھی۔ اس کی پھانسی پر شاید سب سے مؤثر نوحہ اس نے پنجابی میں لکھا اور جب وہ اسے پڑھتی تو اس کے اشک نہ تھمتے:

میں مرزا ساگر سندھ دا

میری راول جنج چڑھی

ساگر سندھ کا مرزا بھٹو، جس کی بارات راولپنڈی کے پھانسی گھاٹ سے اٹھی۔‘

نسرین انجم بھٹی کی بھٹو سے جذباتی وابستگی کا تذکرہ نامور دانشور قاضی جاوید نے بھی اپنے پنجابی مضمون ’نسرین انجم بھٹی، کجھ یاداں کجھ باتاں‘ میں کیا ہے جسے میں نے اردو میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے :

’نسرین کے لیے وہ جذباتی بحران کا زمانہ تھا۔ بھٹو صاحب کی بڑی تعظیم کرتی تھی اور وہ سخت مشکل میں پھنس گئے تھے۔ آنے والے دنوں میں بھٹو صاحب کی دردوں بھری بے وقت موت کا سوگ بھی سب سے بڑھ کر نسرین نے منانا تھا۔ تقدیر کے اس لکھے پر اس نے بہت سی نظمیں لکھیں جن میں سے کچھ شائع بھی ہوئیں لیکن اس کے اپنے نام کے ساتھ لوگوں تک نہیں پہنچیں۔ سجن وہ نظمیں سنتے، آنسو بہاتے اور پھر چپ کر جاتے۔‘

نسرین کے نوحے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں :

میں مرزا ساگر سندھ دا، میری راول جنج چڑھی

میں ٹریا سُولی چُم کے مینوں ایہو ریت بڑی

میں پیواں بھر بھر چلیاں! میری زہر تریہاں لڑی

چولے لتھے انصاف دے، خلقت حیران کھڑی

میں اک پیڑھی دا سورما تے اٹھاں دا سردار

میں اڈ اسمانیں چلیاں تے میرا نام اڈار

میری عشق دے نال اشنائی میری نابری نال امنگ

میری چوراں نال چترائی میری نال قصائیاں جنگ

میں جھوٹے لے لئے موت دے تے چاڑھی پینگھ سویل

میں شاہ حسین دی عاجزی میں شاہ لطیف دی ویل

ممتاز شاعر احمد مشتاق کی ذوالفقار علی بھٹو سے دلی وابستگی ہے اور ان کی پھانسی سے وہ ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب ہوئے۔ بھٹو کے خلاف مقدمے میں اعجاز بٹالوی سرکاری وکیل بنے تو احمد مشتاق نے ان سے ہمیشہ کے لیے قطع تعلق کرلیا۔

مشتاق صاحب سے ایک دن بھٹو کی پھانسی کے حوالے سے منظومات کا تذکرہ ہو رہا تھا تو انہوں نے اختر حسین جعفری کے نوحے کی بڑی تعریف کی :

اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب

اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں

اس نوحے کا یہ مصرع وجاہت مسعود کے بھٹو کی یاد میں مضمون کا عنوان ٹھہرا تھا :

یا الٰہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو

اس نوحے کے آخری بند میں خواتین کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے:

سبز سجّادوں پہ بیٹھی بیبیو!

اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں

اب سمیٹو مشک و عنبر، ڈھانپ دو لوح و قلم

اشک پونچھو اور ردائیں نوکِ پا تک کھینچ لو

کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں

4 اپریل 1979

میں نے احمد مشتاق صاحب سے ایک مرتبہ پوچھا تھا کہ آپ نے بھی بھٹو کے لیے شعر تو ضرور کہے ہوں گے تو کچھ عنایت کیجیے۔ اس پر یہ دو شعر انہوں نے سنائے:

خزاں کے ہاتھ خزاں کے نیاز مندوں نے

نوائے موسمِ گل کا نشان بیچ دیا

وہ جن کے ہاتھ ہیں خونِ گلاب سے رنگیں

بنے ہوئے ہیں وہی عاشقانِ موسمِ گل

احمد مشتاق کی بھٹو سے محبت کے بارے میں مزید بات بھی ہو سکتی ہے لیکن اس مضمون کو ہم نے خواتین کی پیپلز پارٹی اور اس کے بانی سے وابستگی سے مخصوص کیا ہے۔ اس لیے تھوڑا لکھے کو بہت جانیے۔ البتہ اس سلسلے میں ہمارا اگلا حوالہ احمد مشتاق کی اہلیہ ہیں جن کے پیپلز پارٹی سے تعلق خاطر کی خبر ہمیں معروف شاعرہ کشور ناہید کی کتاب سے ملتی ہے:

’احمد مشتاق کی بیوی نے پیپلز پارٹی کے لیے بہت کام کیا۔ اس کی سزا بھی پائی، جیل بھی گئی۔‘

احمد مشتاق صاحب نے مجھے بتایا کہ بھٹو کی پھانسی کی خبر سن کر ان کی اہلیہ بہت دیر تک خود کو کمرے میں بند کرکے روتی رہیں۔ اس سانحے کا ان پر گہرا اثر ہوا اور وہ لاڑکانہ میں بھٹو کی قبر پر حاضری دینے بھی گئی تھیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے غم میں پاکستانی خواتین کے گھلنے کی مثالیں آپ نے دیکھ لیں۔

اب ایک مثال انڈیا سے پیش کی جاتی ہے۔ اردو کی ممتاز فکشن نگار قرۃ العین حیدر نے بھٹو کی پھانسی والے دن ان کے لیے لکھنؤ میں ایک عورت کو روتے دیکھا تھا۔ اس واقعے کے بارے میں کشور ناہید نے ’شناسائیاں رسوائیاں‘ میں لکھا ہے:

’شام کو عینی آپا کو لکھنؤ سے بمبئی بذریعہ ٹرین جانا تھا۔ جب وہ ویٹنگ روم میں پہنچیں تو دیکھا کہ ایک خاتون بیٹھی ہے اور ساڑھی کے پلو سے آنسو پونچھتی جاتی ہے۔ عینی آپا نے رونے کا سبب پوچھا تو بولیں: پاکستانی کیسی قوم ہیں۔ انہوں نے اپنے راجا کو مار دیا ہے۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

آج شہباز شریف نہیں ’شاباش شریف‘، کامیاب سفارتکاری پر پاکستانی فنکار بھی میدان میں

اسلام آباد: سری نگر ہائی وے پر ڈائیورشنز، شہریوں کو اضافی وقت لے کر سفر کی ہدایت

بنگلہ دیش کرکٹ تنازع: بُلبُل کا آئی سی سی سے مداخلت کا مطالبہ

صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایرانی اچھے مذاکرات کار ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟