عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ایندھن کے بحران کے دوران ماہرین اور تجزیہ کاروں نے صاف توانائی کی جانب فوری منتقلی پر زور دیا ہے، اور اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
گارجین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوسل فیول پر انحصار نہ صرف معیشتوں کو غیر مستحکم بنا رہا ہے بلکہ عالمی سیاست کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ خاص طور پر ایران کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے کئی ممالک کو ایندھن کی قلت کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں تیل بحران، مختلف گاڑیوں کے لیے روزانہ فیول کوٹہ مقرر
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صاف توانائی کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمسی اور ہوائی توانائی جیسے ذرائع نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ ان پر کسی قسم کی پابندی یا ناکہ بندی بھی ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مطابق ‘سورج کی روشنی کی کوئی قیمت نہیں بڑھتی اور نہ ہی ہوا پر کوئی پابندی لگائی جا سکتی ہے’۔
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر حکومتیں اور نجی شعبہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں تو نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ پٹرول کی کھپت کم کر سکتا ہے جبکہ گھریلو بیٹریاں بجلی کے نظام کو زیادہ مستحکم بنا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: موجودہ تیل بحران اور 1973 کے عالمی تیل بحران میں کیا فرق ہے؟
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوام کو صاف توانائی کے فوائد سے آگاہ کرنے کے لیے مؤثر مہم چلانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر معاشی فوائد کو اجاگر کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش ناگزیر ہو چکی ہے، اور یہی وقت ہے کہ ممالک دیرپا اور محفوظ توانائی پالیسیوں کی جانب پیش رفت کریں۔














