آئی اے ای اے کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف 48 گھنٹے کے الٹی میٹم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ البرادعی نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ کو روکا نہ گیا تو خطہ آگ کے گولے میں بدل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:معاہدہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے باقی، اس کے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکی
آئی اے ای اے کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور ایران کے خلاف دھمکی آمیز اقدامات نے خطے کو غیر معمولی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں، اقوام متحدہ، یورپی ممالک، روس، چین اور خلیجی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر قدم اٹھائیں تاکہ صورتحال مزید کشیدہ نہ ہو۔

البرادعی نے زور دیا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے نتیجے میں پورا خطہ تباہی کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے اور یہ انسانی اور اقتصادی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کو صرف مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے ہی بحران کو روکا جا سکتا ہے، کیونکہ فوجی یا جارحانہ ردعمل صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستانی کوششوں کا اعتراف، اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیرمقدم
سابق سربراہ نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی کوئی ٹرمپ کے اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدام نہیں کر سکتا، اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری فوری طور پر اس غیر مستحکم صورتحال کا حل تلاش کرے۔
انہوں نے خلیجی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کریں اور کسی بھی ممکنہ فوجی تنازعہ سے بچنے کے لیے سفارتی چینلز استعمال کریں۔
البرادعی کا موقف عالمی برادری کے لیے ایک وارننگ کے طور پر سامنے آیا ہے کہ اگر ٹرمپ کے اقدامات پر فوری قابو نہ پایا گیا تو پورے خطے میں سیاسی، اقتصادی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔












