چین میں ہونے والی ایک بڑی سائنسی دریافت نے زمین پر پیچیدہ جانداروں کی ابتدا کے بارے میں طویل عرصے سے قائم نظریات کو چیلنج کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کو ایسے نایاب فوسلز ملے ہیں جو بتاتے ہیں کہ پیچیدہ حیاتیاتی زندگی پہلے کے اندازوں سے لاکھوں سال پہلے وجود میں آ چکی تھی۔
بین الاقوامی ماہرین کی تحقیق کے مطابق چین کے جنوب مغربی علاقے یونان میں دریافت ہونے والے سینکڑوں فوسلز نے ارتقائی تاریخ کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ فوسلز تقریباً 539 ملین سال پرانے ہیں اور ان کا تعلق ایڈیاکارن دور سے ہے، جو کیمبرین دور سے پہلے کا زمانہ ہے۔
Stunning Discovery:#Fossils from #China show complex life evolved millions of years earlier than once thought https://t.co/xCmcKYpyp1 via @@Yahoo
— E Hau 🇨🇦 🇺🇦 (@ActionTime) April 5, 2026
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ پیچیدہ جانداروں کی تیز رفتار ترقی کیمبرین ایکسپلوژن کے دوران، یعنی تقریباً 535 ملین سال پہلے شروع ہوئی۔ تاہم نئی دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ کئی اہم حیاتیاتی خصوصیات اس سے بھی پہلے موجود تھیں۔
تحقیق میں 700 سے زائد نرم جسم والے جانداروں کے فوسلز شامل ہیں، جن میں ایسے آثار ملے ہیں جو حرکت کرنے، خوراک حاصل کرنے اور تین جہتی ماحول میں زندگی گزارنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ خصوصیات پہلے صرف بعد کے زمانے سے منسوب کی جاتی تھیں۔

ماہرین کے مطابق ان فوسلز میں ایسے جاندار بھی شامل ہیں جن میں جسمانی ساخت کی ابتدائی شکلیں موجود تھیں، جیسے دائیں اور بائیں حصوں میں توازن (bilateral symmetry)، جو آج کے بیشتر جانوروں میں پائی جاتی ہے۔ یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید حیاتیاتی نظام کی بنیاد بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا تقریباً 3 ارب سال پہلے ہوئی، لیکن پیچیدہ جانداروں کے ارتقاء میں اربوں سال لگے۔ نئی تحقیق اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ یہ ارتقائی عمل ایک دم نہیں بلکہ بتدریج ہوا اور اس کی جڑیں پہلے سے کہیں زیادہ قدیم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نصف ملین ڈالر مالیت کا ڈائناسور لیدر بیگ توجہ کا مرکز
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس ارتقاء میں آکسیجن کی سطح میں اضافہ اور جینیاتی تبدیلیاں اہم کردار ادا کرتی رہیں۔ اس نئی دریافت سے نہ صرف ماضی کے نظریات پر نظرثانی کی جا رہی ہے بلکہ مستقبل میں حیاتیاتی ارتقاء کو سمجھنے کے نئے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔

تحقیق کے نتائج عالمی سائنسی جریدے “سائنس” میں شائع ہوئے ہیں، اور ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین پر پیچیدہ زندگی کی کہانی پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پرانی اور پیچیدہ ہے۔














