سعودی عرب کے علاقے نجران میں واقع المِشکات ہیریٹیج ولیج کے مٹی سے بنے قدیم محلات اور تاریخی کنواں دیہی سیاحت کو فروغ دینے کا باعث بن گئے ہیں، جہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاح قدرتی حسن اور مقامی ثقافت سے متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز
المِشکات ہیریٹیج ولیج ایک زندہ تاریخی ورثہ ہے، جس میں مٹی، لکڑی اور کھجور کے تنوں سے تعمیر کیے گئے 12 مٹی کے محلات اور تقریباً 300 سال پرانا کنواں شامل ہے۔ یہ محلات رہائش گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ خاندانی قلعوں کے طور پر بھی استعمال ہوتے تھے، جو زرعی طرزِ زندگی اور باہمی تعاون پر مبنی معاشرت کی عکاسی کرتے ہیں۔
گاؤں کا قدیم کنواں آج بھی پینے کے پانی اور آبپاشی کا اہم ذریعہ ہے، جسے روایتی چرخیوں اور رسیوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: العلا: سعودی عرب کا ایک تاریخی شہر اور ثقافتی ورثہ
مقامی افراد نے روایتی طریقوں اور مواد استعمال کرتے ہوئے محلات کی بحالی کا کام خود شروع کیا، جس کے تحت دیواروں، چھتوں اور لکڑی کے دروازوں کی مرمت کی گئی۔ آثارِ قدیمہ کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے ہیریٹیج کمیشن نے ان عمارتوں کی دستاویز بندی اور فہرست سازی بھی مکمل کی ہے۔
نجران ٹورازم کوآپریٹو سوسائٹی کے سربراہ کے مطابق دیہی سیاحت کے فروغ سے مقامی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں اس تاریخی گاؤں کا رخ کر رہے ہیں۔













