دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین ان مخلوقات کے لیے سوگ منا رہے ہیں جو تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دی ڈائنوسارز نامی نیٹ فلکس سیریز نے ناظرین کو اس قدر متاثر کیا کہ لوگ ڈائنوسارز کی زندگی اور ان کے انجام پر افسردہ ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔
صارفین ننھے ڈائنوسارز یا بڑے جانداروں کی اینی میٹڈ ویڈیوز کو جذباتی موسیقی کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ ‘یہ دنیا ان کی تھی’۔ کئی افراد نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ ایسی مخلوق کے لیے کیوں اداس ہیں جسے انہوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بولیویا میں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کا دنیا کا سب سے بڑا مقام دریافت
ماہرین کے مطابق انسانوں کا ڈائنوسارز سے جذباتی تعلق نیا نہیں۔ ماضی میں انہیں خوفناک مخلوق، فلمی ولن یا بچوں کے دوست کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ تاہم جدید تحقیق نے اس تصور کو بدل دیا ہے کہ ڈائنوسارز سست اور کم عقل تھے۔ اب شواہد بتاتے ہیں کہ وہ متحرک، ذہین اور سماجی رویے رکھنے والے جاندار تھے۔
سائنس دانوں کے مطابق ان کی معدومی کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک تباہ کن شہابیے کے زمین سے ٹکرانے کے باعث ہوئی، جس نے زمین کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈائنوسارز کی کہانی دراصل انسانوں کے اپنے خدشات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور عالمی بحرانوں کے دور میں لوگ ان مخلوقات کی تقدیر میں اپنی جھلک دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: راجستھان میں ڈائنوسار سے متعلق پانچویں بڑی دریافت، سائنسی تصدیق کیسے ہوگی؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈائنوسارز مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، بلکہ آج کے پرندے انہی کی ارتقائی شکل ہیں، جو دنیا بھر میں موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈائنوسارز کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین پر زندگی کا تسلسل برقرار رہتا ہے، مگر غلبہ ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔














