تائیوانی اپوزیشن رہنما کا دورۂ چین، بیجنگ کی تائیوان کو ساتھ ملانے کی مہم تیز

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تائیوان کی بڑی اپوزیشن جماعت کی سربراہ چینگ لی وون چین کے دورے پر روانہ ہو رہی ہیں، جہاں ان کی ممکنہ ملاقات شی جن پنگ سے متوقع ہے۔

تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کیومنٹانگ (کے ایم ٹی) کی سربراہ چینگ لی وون منگل کے روز چین کے دورے پر روانہ ہو رہی ہیں، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ممکنہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ چین کی جانب سے تائیوان کے ساتھ ’اتحاد‘ کے لیے بڑھتی سفارتی کوششوں کے تناظر میں چینگ نے اپنے اس دورے کو ’امن مشن‘ قرار دیا ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین تائیوان پر فوجی دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے اور اسے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کی اپوزیشن اکثریت رکھنے والی پارلیمنٹ حکومت کے 40 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے تائیوان کے لیے امریکا اپنے فوجی قربان نہیں کرے گا، چینی ماہر

دورے سے قبل کے ایم ٹی اور حکمران جماعت ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کے درمیان سوشل میڈیا پر بیانات کی جنگ بھی دیکھنے میں آئی، جہاں دونوں جماعتوں نے جنگ اور امن کی علامتی زبان استعمال کی۔ کے ایم ٹی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’امن ہی خوشحالی کی بنیاد اور تائیوان کے مستقبل کی امید ہے‘، جبکہ اس کے برعکس ڈی پی پی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن چین کے ساتھ مل کر تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

گزشتہ ماہ غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو میں چینگ لی وون کا کہنا تھا کہ ’صرف دفاعی طاقت کے ذریعے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے سیاسی کوششیں بھی ناگزیر ہیں‘۔

یہ دورہ ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ توقع ہے کہ اس دوران زرعی تجارت اور ہوابازی کے پرزہ جات جیسے معاملات پر پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم تائیوان کے حساس معاملے پر کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم ہے۔

فروری میں ہونے والی ایک ٹیلی فون گفتگو میں شی جن پنگ نے ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ امریکا تائیوان کو اسلحے کی فروخت کے معاملے کو احتیاط سے نمٹائے۔

یہ ایک دہائی کے بعد کسی کے ایم ٹی رہنما کا چین کا پہلا دورہ ہے، تاہم تاحال چینی حکام نے چینگ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ چینگ جمعرات سے بیجنگ میں موجود ہوں گی۔

ادھر تائیوان کی چین پالیسی مرتب کرنے والے ادارے مین لینڈ افیئرز کونسل نے کہا ہے کہ چینگ کو بیجنگ سے فوجی دباؤ ختم کرنے اور تائیوان کے عوام کے حقِ خود ارادیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے تائیوان میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو کچل دیا جائے گا، چین کا واضح پیغام

چین نے کبھی بھی تائیوان کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے طاقت کے استعمال سے دستبرداری اختیار نہیں کی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کی ترجیح ’پرامن اتحاد‘ ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بیجنگ نے توانائی کے تحفظ سمیت مختلف فوائد کا حوالہ دے کر تائیوانی عوام کو قائل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جنہیں تائیوانی حکام مسترد کر چکے ہیں۔

چین کی مشرقی تھیٹر کمانڈ نے حال ہی میں ایک علامتی تصویر بھی جاری کی، جس میں تائیوان کو چین کے ساتھ اتحاد کی صورت میں دکھایا گیا۔ تاریخی پس منظر میں 1949 کی خانہ جنگی کے بعد ماؤ زیڈونگ کی قیادت میں کمیونسٹوں سے شکست کے بعد کے ایم ٹی کی افواج تائیوان منتقل ہو گئی تھیں۔

تائیوان میں ہونے والے عوامی جائزوں سے بارہا ظاہر ہوا ہے کہ بیجنگ کے ’ایک ملک، دو نظام‘ ماڈل کے تحت چین کی خودمختاری قبول کرنے کی حمایت نہایت کم ہے۔

’اتحاد‘ کے حوالے سے سوال پر چینگ لی وون نے کہا کہ اس موضوع پر بات چیت کا وقت ابھی نہیں آیا۔ ان کے بقول، ’فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں اطراف کے درمیان پُرامن اور مستحکم تعلقات کیسے قائم کیے جائیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟