پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے حالیہ ریمارکس پر سخت ردعمل ظاہر کیا، جن میں پاکستان کے فراہم کردہ شواہد پر سوال اٹھایا گیا، جو تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے حملوں میں افغانستان کے کردار کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ یہ بیانات نہ صرف شواہد کے منافی ہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام ہوگیا، افغان طالبان کا پروپیگنڈا بے نقاب
پاکستان کے موقف کے مطابق، متعدد بین الاقوامی رپورٹس، بشمول اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم، سگار (SIGAR) اور دیگر عالمی فورمز، بار بار یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ افغانستان ٹی ٹی پی(TTP) اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں 6 ہزار سے زائد ٹی ٹی پی کے دہشتگرد شامل ہیں۔
پاکستانی ترجمان نے کہا کہ ایسے شواہد کو نظرانداز کرنا یا مسترد کرنا عالمی برادری کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے، کیونکہ یہ خطائی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے حقیقی خطرات کو کم اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے زور دیا کہ دہشتگرد گروہوں کی شناخت اور ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی ہی بین الاقوامی جوابدہی کی بنیاد ہے۔ ایسے شواہد کو مسترد کرنا نہ صرف عالمی رپورٹنگ کی سالمیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے بلکہ دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام ہوگیا، افغان طالبان کا پروپیگنڈا بے نقاب
پاکستانی حکام نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ثبوت پر مبنی اقدامات کریں اور دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کو بے نقاب کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم رہ سکے۔













