سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے الیکشن ایکٹ 2017 میں خواتین کے لیے عام نشستوں پر 5 فیصد کوٹہ بڑھنے کی مجوزہ ترمیم کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا، جس کی بنیادی وجہ تجاویز کی عملی حیثیت، نفاذ میں مشکلات اور موجودہ طریقہ کار سے ممکنہ تضاد قرار دی گئی۔
چیئرمین سینیٹر خلیل طاہر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور کی جانب سے پیش کردہ ترمیم پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ترمیم میں خواتین کے لیے عام نشستوں پر 5 فیصد کوٹہ بڑھانے اور معذور افراد کے لیے پولنگ اسٹیشنز پر لازمی سہولیات فراہم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: مراد سعید کی نااہلی: پی ٹی آئی نے سینیٹ ضمنی الیکشن میں ٹکٹ جاری کرنے کے لیے پارلیمانی بورڈ تشکیل دیدیا
حکام کے مطابق کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگرچہ یہ تجاویز اہم اور مثبت ہیں، تاہم ان پر ملک بھر میں یکساں اور مؤثر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ وزارتِ پارلیمانی امور کے سیکرٹری نے آگاہ کیا کہ ایسی ترامیم سے قبل ان کی عملی افادیت اور انتظامی استعداد کا مکمل جائزہ ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پولنگ اسٹیشنز پر سہولیات کی فراہمی کے لیے پہلے ہی ایک جامع سروے اور انتظامی طریقہ کار موجود ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ریمپس اور دیگر سہولیات جیسے اقدامات کو قانون کا حصہ بنانے کے بجائے انتظامی ہدایات کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹ سیکرٹریٹ کی بڑی بچت، 26 کروڑ 50 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع
اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے زور دیا کہ ایسے قوانین بنانے سے اجتناب کیا جائے جن پر مکمل عملدرآمد ممکن نہ ہو۔ سینیٹر پرویز رشید نے بھی کہا کہ انتخابی قوانین نہایت حساس ہوتے ہیں اور ان میں غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا کرنے سے سیاسی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس نوعیت کی اصلاحات پر سیاسی جماعتیں پہلے باہمی مشاورت سے اتفاقِ رائے پیدا کریں۔
کمیٹی اراکین کا مجموعی مؤقف تھا کہ مجوزہ اقدامات اپنی روح کے اعتبار سے اہم ہونے کے باوجود قانون سازی کے بجائے انتظامی سطح پر زیادہ بہتر طریقے سے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے متفقہ طور پر ترمیم کو مسترد کر دیا۔













