پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ، صدارتی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ رکھا۔ جس کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں، اور ایک جامع امن منصوبہ دونوں ممالک کو پیش کر دیا گیا ہے، جس پر عملدرآمد آج پیر سے ممکن ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت نہ صرف فوری جنگ بندی ممکن ہے بلکہ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فریم ورک پاکستان نے تیار کیا اور گزشتہ رات ایران اور امریکا کو باضابطہ طور پر ارسال کیا گیا۔ اس منصوبے میں دو مرحلے شامل ہیں: پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک پائیدار اور جامع امن معاہدے کی تشکیل شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’تمام نکات پر آج ہی اتفاقِ رائے ضروری ہے‘، جبکہ ابتدائی سمجھوتے کو مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دے کر پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ اس عمل میں پاکستان واحد رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ممالک 45 روزہ جنگ بندی پر مشتمل دو مرحلوں کے ایک معاہدے پر غور کر رہے ہیں، جو بالآخر مستقل امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ یہ معلومات امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی تھیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر نے رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ، صدارتی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ رکھا۔
منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ حتمی معاہدے کی تکمیل کے لیے 15 سے 20 دن کی مدت رکھی گئی ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کو غیر رسمی طور پر “اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
تاحال نہ امریکی اور نہ ہی ایرانی حکام نے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردعمل دیا ہے، جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں اور اس کے لیے امریکا یا اسرائیل کی جانب سے آئندہ کسی بھی حملے کے خلاف ضمانت کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت مختلف ممالک کی جانب سے ثالثی پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہوگی، جس کے بدلے اسے اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔
تاہم دو پاکستانی ذرائع کے مطابق، وسیع رابطوں کے باوجود ایران نے ابھی تک کسی حتمی اتفاق پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران کی جانب سے تاحال کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا، جبکہ پاکستان، چین اور امریکا کی مشترکہ حمایت سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی تجاویز پر بھی کوئی یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
چینی حکام نے بھی اس معاملے پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔
یہ تمام سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں اس تنازعے کے فوری خاتمے پر زور دے چکے ہیں اور خبردار کر چکے ہیں کہ اگر قلیل مدت میں جنگ بندی نہ ہوئی تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ سرمایہ کار اور تاجر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔














