ہمیں اس بین الاقوامی تناظر میں کچھ سوالات درپیش ہیں۔ یہ سوال پہلے مخفی تھے، اب عیاں ہو گئے ہیں۔ ابہام کا وقت بیت گیا، وضاحت کا لمحہ آ چکا ہے۔ المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے ان سوالوں کو سینوں میں دفن کیا، خوش رنگ الفاظ کا کفن پہنایا، نت نئی تشریحات کا رنگ دیا، مصلحتوں سے کام لیا مگر جواب کی جانب نہیں آئے۔ اب دنیا کو ایک نئے ورلڈ آرڈر کا سامنا ہے۔ یہ ورلڈ آرڈر جواب مانگتا ہے۔ جواب نہ دینے والوں کو صرف عتاب اور عذاب کا نہیں بلکہ گالیوں کا بھی سامنا ہے۔
ہر تمیز ختم ہو چکی ہے، ہر تفریق مٹ چکی ہے۔ احترام، لحاظ، اقدار سب فنا ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے قاعدے کو آگ لگ گئی ہے۔ سرحدوں کے احترام کے درس کا صفحہ قرطاس سے مٹ چکا ہے۔ بین السطور بات کہنے کا وقت بیت گیا ہے۔ اب دنیا واضح اور اٹل موقف کا تقاضا کرتی ہے۔ دوست یا دشمن کے علاوہ اب کوئی استعارہ بچا ہی نہیں۔ مصلحت اور مصالحت والے لوگ اور ملک ختم ہو گئے ہیں۔ اب دور بینی اور دانش کا طاقت سے براہ راست مقابلہ ہے۔ اب نہ ماضی کا کسی کو لحاظ ہے نہ مستقبل کی پرواہ۔ اب جو بھی ہے آج ہے، ابھی ہے، فوری ہے، فی الوقت ہے۔ یہ قابلِ نفرین اثاثہ اس دور کی عطا ہے، یہی جلد بازی اس عہدِ عبرتناک کا ثمر ہے۔
تاریخ کے اس دو راہے پر جب دنیا دو قوتوں میں منقسم ہے، پاکستان کی صورت حال نازک تر ہے۔ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔ ہم اس مثلث میں شامل بھی ہیں اور اس سے دور بھی۔ ہم اہم بھی ہیں مگر نمایاں نہیں۔ ہم ضروری بھی ہیں مگر نمائشی نہیں۔ ہم دیرینہ مراسم پر یقین بھی رکھتے ہیں مگر نئی منزلوں کی تلاش میں بھی ہیں۔
اس ابتلا کے دور میں ہمارے سامنے راستے مسدود بھی ہیں اور بے شمار امکانات بھی۔ اس موقع پر ہمیں بس اتنا کرنا ہے کہ جو سوال مدتوں سے خوش رنگ الفاظ میں دفن تھے، اب ان پر واضح موقف اختیار کرنا ہے۔ جواب دینا ہے، جواب لینا ہے۔ مصلحتوں کو تیاگ دینا ہے، مصلحتوں کو بھول جانا ہے۔ اٹل اور حتمی ہونا ہے۔ یہی اس دور کا تقاضا ہے، یہی اس عہد کی خواہش ہے۔
متحدہ عرب امارات نے قرض واپس مانگ لیا تو قیامت آ گئی۔ کچھ لوگوں کو یوں لگا کہ دغا ہو گیا، دھوکہ کر دیا گیا۔ یہ کوئی وقت تھا؟ ایسے بھی بھلا کوئی کرتا ہے؟ یہ باتیں کرنے والوں نے کبھی سوچا ہے کہ قرض بالآخر واپس کرنا ہوتا ہے۔ قرض واپس کرنا دھوکہ نہیں، قرض کی ادائیگی دغا نہیں بلکہ قرض کی واپسی امانت داری کی دلیل ہے۔ قرض ادا نہ کرنا دھوکہ ہے، قرض کی رقم دبا کر رکھنا اخلاقی اور معاشی جرم ہے۔ جس نے مشکل میں قرض دیا، اس کے خلاف بات کرنی ہے؟ اس کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانی ہے؟ یا پھر اس کا شکریہ ادا کرنا ہے، اس کا احترام کرنا ہے؟ اس کے احسانات پر ممنون ہونا ہے یا پھر اس کو گالی دینی ہے؟ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے محسنوں کو احترام دیں، اپنے مشکل میں کام آنے والے دوستوں کی عزت کریں۔ رقم ان کی تھی، ہماری نہیں۔ واپسی کا فیصلہ بھی ان کا ہونا چاہیے تھا، ہمارا نہیں۔
ہمارے کچھ لوگ جس طرح سوشل میڈیا پر متحدہ عرب امارات کے خلاف تلواریں سونت کر کھڑے ہو گئے ہیں، انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس وقت متحدہ عرب امارات کے لیے ہمارے پاس شکریے کے پھول ہونے چاہئیں، طنز کے نشتر نہیں۔ قارئین سے التماس ہے کہ جس سرزمین کے خلاف یہ شست باندھ کر بیٹھ گئے ہیں، وہاں سولہ لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں جو اپنی حلال کی کمائی سے زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ یہ ان کا احسان ہے، ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے۔ اس سرزمین سے ہمارے مراسم میں بال نہ آئے، یہ پاکستان کی پہلی کوشش ہونی چاہیے۔ دلوں میں کوئی رخنہ نہ آئے، یہ سفارت کاری کی معراج ہونی چاہیے۔
سعودی عرب اور ایران کے معاملے میں بات واضح ہو جانی چاہیے۔ پاکستان کی پوزیشن نازک ہے۔ پاکستان امریکی جارحیت اور اسرائیلی استبداد کے خلاف ہے اور رہے گا۔ پاکستان کی تعریف امریکا بھی کر رہا ہے، سعودی عرب کی جانب سے اچھے الفاظ ادا کیے جا رہے ہیں اور ایران بھی پاکستان کی مصلحانہ کاوشوں کا معترف ہے۔ مخالف قوتوں میں یہ توازن سہل نہیں ہے۔ اس میں فیلڈ مارشل کی عرق ریزی بھی ہے، وزیر اعظم کی شبانہ روز محنت بھی اور نائب وزیر اعظم کا تحرک بھی شامل ہے۔
جہاں تک کچھ سوالات کے جواب کی بات ہے تو ہم دل سے ہر لمحہ مانتے ہیں، لیکن اگر وقت پڑا تو ہم برملا کہیں گے کہ سعودی عرب سے زیادہ لگاؤ ہمیں کسی اور ملک سے نہیں۔ اس کی بڑی واضح وجوہات ہیں۔ ہمارا رشتہ نظریاتی بھی ہے، مذہبی بھی، برادرانہ بھی، مخلصانہ بھی۔ اس ارضِ پاک پر خانہ خدا ہے اور مسجد نبوی کے گنبد بھی۔ وہاں پر بات کرنے سے پہلے ہر مسلمان کی پلکیں وضو کرتی ہیں۔ اس دھرتی پہ لاکھوں مسلمان روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں اور رزقِ حلال بھی کماتے ہیں اور نیکیوں کی برسات کا لطف بھی اٹھاتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا، دستِ مہربان سعودی عرب کی جانب سے بڑھا۔ جب بھی برا وقت آیا، ہمارے لیے شفقتوں کے در کھول دیے گئے۔ پھر اب ان دیرینہ مراسم کو معاہدے کی شکل دے دی گئی، دیرینہ محبت پر مہر ثبت کر دی گئی ہے۔ تو یہ سوال کوئی تشنہ نہ سمجھے، اس معاملے میں کوئی ابہام کا شکار نہ رہے۔
یہ بات واضح ہے اور ہر دور میں واشگاف رہی ہے کہ ہمیں اس ارضِ پاک سے محبت نہیں بلکہ عقیدت ہے۔ یہ آزمائش نہیں، عشق ہے۔ وہ سرزمین ہمارا راستہ نہیں، ہمارا حتمی اور اٹل فیصلہ ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












