دو شیطان

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایران کو دھمکی دی ہے: ’آبنائے ہرمز کھولو۔۔۔ ورنہ شہری تنصیبات پر حملے ہوں گے، اور قیامت ٹوٹ پڑے گی۔‘

یہ سیاست نہیں، بیان نہیں۔یہ محض طاقت کا اظہار بھی نہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسان اپنی ہی بنائی ہوئی طاقت کے نشے میں عقل کھو بیٹھتا ہے۔

سوچیں، یہ وہ زبان ہے جو کسی شدت پسند گروہ کی ہونی چاہیے تھی، مگر یہ ایک عالمی طاقت کے رہنما کی زبان سے ادا ہو رہی ہے۔

یہ سفارت کاری بھی نہیں، یہ وہی  کچھ ہے جسے فریڈرک نطشےنے “Will to Power”  کہا تھا۔ یعنی طاقت کی وہ اندھی خواہش جو اخلاق، عقل اور انسانیت سب کو روند ڈالتی ہے۔

آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں، یہ دنیا کی معاشی شہ رگ ہے اور یہاں ایک چنگاری صرف جنگ نہیں چھیڑے گی بلکہ عالمی نظام کو ہلا دے گی۔

اور پھر بھی۔

سب کچھ جانتے ہوئے، ایک شخص اپنی انا کی تسکین کے لیے دنیا کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔یہ دو غلیظ ذہنوں کا ملاپ ہے۔دو بوڑھے شیطانوں کی چال۔

ایک بنجمن سیتن یاہو ، دوسرا ڈونلڈ ٹرمپ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کے سارے من و سلویٰ چکھ لیے۔ دولت، طاقت، اقتدار، جنسی خواہشات، اور جانی و مالی تحفظات۔ اور فلسفہ یہاں ایک اور راز کھولتا ہے: ’جب انسان اپنی ہر خواہش پوری کر لیتا ہے، تو اس کے اندر ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔‘

نطشے نے اسی خلا کو “Nihilism” کہاتھا۔ن ِہلِزم: ’ایک ایسی کیفیت جہاں کچھ بھی معنی نہیں رکھتا، جہاں انسان خدا، مذہب اور اخلاقی اصولوں سے دور ہو جاتا ہے‘۔

اور یہی خلا جب طاقت کے ساتھ مل جائے تو تباہی جنم لیتی ہے۔ یعنی جب سیاست سے اخلاق، روحانیت اور جوابدہی ختم ہو جائے، تو طاقت درندگی بن جاتی ہے۔

آج یہی کچھ ہو رہا ہے۔ طاقت ہے، مگر اخلاق نہیں۔ فیصلے ہیں، مگر ذمہ داری نہیں۔ الفاظ ہیں، مگر حکمت نہیں۔

اسلامی فلسفہ اس لمحے کو اور واضح کرتا ہے۔ قرآن ہمیں ایک بنیادی اصول سکھاتا ہے: ’طاقت ایک امانت ہے، اختیار نہیں۔‘ جب انسان اس امانت کو اپنی انا کا ہتھیار بنا لیتا ہے، تو وہ ’فساد فی الارض‘ کا سبب بنتا ہے، یعنی زمین پر بگاڑ، ظلم اور تباہی۔

اور آج ہم اسی بگاڑ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ صرف ایران نہیں، صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں، بلکہ پوری دنیا، شیطان کے سامنے یرغمال بن چکی ہے۔ یہ جنگ  کوئی کھیل نہیں، بلکہ انسانیت کے وجود پر ایک تھپڑ ہے۔

اور سب سے زیادہ خوفناک بات

’کوئی ان 2 شیطانوں کو روک نہیں رہا‘۔ نہ کانگریس، نہ عالمی میڈیا، نہ اقوامِ متحدہ، نہ چین، نہ روس، نہ وہ طاقتیں، جو امن کی دعوے دار بنی پھرتی ہیں۔

یہ خاموشی کوئی حادثہ نہیں، یہ اجتماعی اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔

پوری دنیا دیکھ رہی ہے، لکھ رہی ہے، تجزیے کر رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان مر رہا ہے اور ضمیر سو رہا ہے۔

یہ قیادت نہیں، یہ زوال ہے، یہ پستی کی علامت ہے، اور پھر ایک آخری سچ : ’دنیا واقعی  ایک سراب ہے۔‘ اقوامِ متحدہ؟ ایک ڈھکوسلہ۔ بین الاقوامی قانون؟ طاقتور کے لیے لچکدار انسانی حقوق؟ تقریروں تک محدود۔

ہم انسانوں نے اپنی تقدیر ان جنونیوں کے حوالے کر دی ہے کہ جنہیں پاگل خانوں میں ہونا چاہیے تھا۔ اور یہ دونوں پاگل اپنی آخری سانسوں سے پہلے دنیا کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں۔ اور ہم؟ ہم خاموش  تماشائی ہیں۔’یہی سب سے بڑا جرم ہے۔‘

ہم نہ ایران، امریکہ یا اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں۔ نہ میزائلوں کی وجہ سے، نہ تیل کی قیمتوں کی وجہ سے۔ ’ہم  سب تباہ ہو رہے ہیں، کیونکہ ہم نے اندھی طاقت اور اقتدار کو اخلاقی اقدار سے ماورا  کر دیا ہے۔‘

اور آخر میں ایک سوال، جو فلسفہ، تاریخ اور ضمیر تینوں ہم سے پوچھتے ہیں: ’کیا انسان واقعی ترقی یافتہ ہو گیا ہے؟ یا پہلے سے زیادہ خطرناک؟‘

جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کس نے کس کو دھمکی دی تھی، بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ ’کسی نے انہیں روکا کیوں نہیں؟ ‘ ہم نے سب کچھ دیکھا۔ ہم جانتے تھے، مگر قدم نہ اٹھایا۔ اور آج زمین خود رو رہی ہے، اور ہم، ہم صرف گواہ ہیں، تباہی کے سامنے بے بس۔

یہ بوڑھے شیطان ایک دن مر جائیں گے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسی دنیا چھوڑ جائیں گے، جہاں زندہ رہنے والے ہی مر چکے ہوں گے۔

عباس سیال

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری مکمل، اہلِ خانہ سے ملاقات بھی کرا دی گئی

انطالیہ فورم: اسحاق ڈار اور شمالی قبرص کے وزیر خارجہ کی اہم ملاقات

اسلام آباد میں ٹرانسپورٹ اڈے بند ہونے کی افواہیں، ضلعی انتظامیہ کی تردید

ایران امریکا مذاکرات کے دوران مودی کو ‘چائے والا’ دکھانے والی میم امریکی اخبار میں شائع، سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل

لاہور میں اسکوٹی سوار لڑکی سے ڈکیتی، مریم نواز کا 8 گھنٹوں میں ملزم کی گرفتاری کا حکم

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟