پاکستان میں ایک پوری ملامتی نسل انسانی وجود میں آ چکی ہے، پاکستان کے بارے میں کوئی پریشان کن خبر آ جائے تو اس کی ایسے باچھیں کھل جاتی ہیں جیسے اسے اولاد نرینہ عطا ہوئی ہو لیکن پاکستان کے حوالے سے کوئی اچھی خبر آ جائے تو اس پر ایسا جنون طاری ہو جاتا ہے جیسے اس کو کسی ابلیس نے چھُو لیا ہو، اس پر پطرس بخاری کے ایک شہرہ آفاق مضمون کی ساری کیفیات اتر آتی ہیں۔
پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہو تو یہ شادیانے بجانے لگتی ہےاور پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگے تو یہ بیوہ ڈائن کی طرح چیخیں مارنا شروع کر دیتی ہے۔
پاکستان کے قومی ایام کی خوشیاں آئیں تو یہ اجڈ دلہن کی طرح رُس کر ( ناراض ہو کر ) میکے چلی جاتی ہے اور کیلنڈر پر پاکستان کی تاریخ کے کچھ تلخ ایام آجائیں تو یہ جھگڑالو مائیوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ مار کر طعنے دینے لگتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟
پاکستان امریکا تعلقات میں کچھ تناؤ آ جائے تو یہ ماسی مصیبتے کی طرح لعن طعن کرنا شروع کر دیتی ہے کہ پاکستان کی فارن پالیسی ناکام ہو گئی اور پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتر ہو نے لگیں تو یہ کھسیانی بلی کی طرح شہر کے سارے کھمبے نوچنا شروع کر دیتی ہے کہ پاکستان نے قومی مفادات کا سودا کر دیا۔
پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کو دیکھ لیجیے، اس پر بھارت کی تکلیف تو سمجھ میں آتی ہے کہ نہ صرف جنوبی ایشیا میں بھارتی شاؤنزم کو لگام ڈالی گئی ہے بلکہ مشرق وسطی میں بھی بھارت کے کردار کو محدود کر دیا گیا ہے چنانچہ وہ اسے مختلف معانی دینے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے، لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب یہ مقامی ملامتیے بھی اس معاہدے پر گرہیں لگاتے پائے جاتے ہیں کہ پاکستان کودوسروں کی جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔
کسی فروخت شدہ گھڑی کی سوتیلی سوئیوں کی طرح یہ گھوم گھوم کر اس معاہدے کی شرح بیان کرتے ہیں اور ایسا کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ پاک سعودی تعلقات کا بنیادی حوالہ یہ دفاعی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ اس معاہدے کی بنیاد ہمارے عشروں کے تعلقات ہیں ۔ ایسا نہیں ہوا کہ ایک دفاعی معاہدے نے ہمیں قریب کیا۔ بلکہ یوں ہوا کہ ہماری عشروں کی قربت کی وجہ سے یہ دفاعی معاہدہ ہوا۔ پاک سعودی تعلقات کو اس دفاعی معاہدے کی روشنی میں نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اس معاہدے کو پاک سعودی دیرینہ تعلقات کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔
ملامتیے جب یہ دیکھتے ہیں کہ ایک غیر معمولی معاہدہ ہوا تو یہ اس پر تنقید شروع کر دیتے ہیں کہ ہم پارٹی کیوں بن گئے لیکن ملامتیوں کے سامنے جب یہ حقیقت رکھی جاتی ہے کہ پاکستان تو سب کا خیر خواہ ہے اور اس کی وجہ سے جنگ ابھی تک پورے خطے میں نہیں پھیلی تو یہ ہاتھ نچا کر طعنہ دینے لگتے ہیں کہ یہی تو منافقت ہے کہ ابھی تک معلوم ہی نہیں ہو رہا ہم کس کے ساتھ ہیں۔
جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ ہم سب کے خیر خواہ ہیں، تو یہ مان کر نہیں دیتے، یہ زہر تھوکتے ہیں کہ پاکستان امریکا کا ایجنٹ بنا ہوا ہے۔ پھر جب ایران کے وزیر خارجہ پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان زندہ باد کہتے ہیں تو صدمے کی شدت سے ان کا سارا زہر ان کے چہرے پر پھیل جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں بھارت کا اصل ہدف کیا ہے؟
پاکستان میں منرلز کانفرنس ہونے لگے تو یہ امریکا میں لابنگ شروع کر دیتے ہیں کہ امریکا اپنا وفد پاکستان نہ بھیجے اور امریکی وفد پاکستان آ جائے اور معاہدہ ہو جائے تو یہ پھر سے ماسی مصیبتے بن جاتے ہیں کہ اس معاہدے میں تو کچھ ہے ہی نہیں۔ کمزور سی تو کمپنی ہے جس سے معاہدہ کیا۔ کرنا ہی تھا تو کسی بڑی کمپنی سے کیا ہوتا۔ جب سمجھایا جائے کہ دیکھو اس معاہدے کی یہ اہمیت ہے اورر دنیا یہ کہہ رہی ہے تو یہ ندامت اور شرمندگی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور ’ڈٹ‘ کر نیا یو ٹرن لیتے ہیں کہ دیکھا پاکستان کا مفاد بیچ دیا نا حکومت نے۔
معیشت سنبھلنے لگے تو یہ ہینڈ گرنیڈ کی صورت اوورسیز پاکستانیوں میںں جا کر پھٹنا شروع کر دیتے ہیں کہ پاکستان میں رقم مت بھیجنا اور اس کے باوجود اوورسیز پاکستانی تاریخ کی سب سے زیادہ رقم پاکستان بھجتے ہیں تو یہ لوگ شرمندہ تک نہیں ہوتے اور نازو ادا سے کہتے ہیں کہ ہم انقلابی نونہال کیا جانیں شرم کس تکلف کا نام ہوتا ہے۔
پاکستان کہیں سے قرض لے تو یہ کشکول کشکول کی قوالی پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور پاکستان یو اے ای کا قرض ایک ہی ماہ میں واپس کرنے کا فیصلہ کر لے تو یہ اس پر بھی آستینیں چڑھا کر گالیااں دینا شروع کر دیتے ہیں۔
پاکستان کی ہر پالیسی ان کے خیال میں غلط ہوتی ہے اور دوسرے کی ہر غلطی ان کے نزدیک معیار حق ہوتی ہے۔ پاکستان کا کسی سے بھی کوئی تنازع ہو اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ سے یہ اپنا وزن دوسرے پلڑے می ڈالتے ہیں۔
پاکستان کی بھارت سے لڑائی ہو تو یہ بھارتی حملوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے پاکستان دفاع میں ناکام ہو گیا ہو۔ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ کم بختو، حیا کرو، پاکستان نے تو بھارت کی خوب ٹھکائی کی ہے تو یہ ڈی چوک کے ٹریفک سگنل کی طرح آنکھوں کو جلا بجھا کر کہتے ہیں کہ کون سا آرمی نے کیا ہے، یہ کام تو ایئر فورس نے کیا ہے۔ ( ظااہر ہے یہ وہ دلیل ہے جو ان جیسا باشعور ہی دے سکتا ہے)۔
مزید پڑھیں: کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھگڑا ہو تو یہ اپنا وزن افغانستان کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں ’چن ماہی‘ کے واپس آنے تک، پاکستان کا موقف کبھی درست ہو ہی نہیں سکتا۔
یہ صبح سو کر اٹھتے ہیں تو خود کو اذیت دینے لگتے ہیں کہ ہمارے بغیر یہ سورج کیسے طلوع ہوا ہے، کیوں ہوا ہے، یہ ہوائیں اب تک کیوں چل رہی ہیں، بارشیں کیوں برستی ہیں، بادل کیوں آتے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی انہیں عید کے چاند کی مبارک دے تو خوشی کے ان لمحات میں بھی منہ بسور کر کہتے ہیں: ہم نے اس چاند کا کیا کرنا ہے ہمارا چاند تو جیل میں ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












