اسٹیٹ بینک نے آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے لیے خدمات کی برآمدات سے متعلق رپورٹنگ کے قواعد میں نرمی کرتے ہوئے 25 ہزار ڈالر تک کی برآمدی آمدنی کی وصولی ظاہر کرنے سے استثنیٰ دے دیا ہے۔
پیر کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک کی آئی ٹی برآمدات میں تیزی لانا ہے۔
مرکزی بینک نے ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں یہ سہولت بھی برقرار رکھی ہے کہ آئی ٹی کمپنیاں اور فری لانسرز اپنی برآمدی آمدنی میں سے ماہانہ 5 ہزار ڈالر یا 50 فیصد ایکسپورٹرز اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ، نیا ریکارڈ قائم
اسٹیٹ بینک کے مطابق فارم آر اور انورڈ ریمیٹنس واؤچر یعنی آئی آر وی کی حد بھی بڑھا کر 25 ہزار ڈالر یا دیگر کرنسی میں مساوی رقم کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ حد 10 ہزار ڈالر تھی۔
ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے صدر ظفر پراچہ کے مطابق نئی حد سے رپورٹنگ کے عمل میں آسانی آئے گی۔
مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کے لیے رپورٹنگ کے تقاضے مزید سخت کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کی جانب سے بیرونِ ملک ادائیگیوں کی تفصیلات زیادہ وضاحت کے ساتھ فراہم کریں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر کرنے اور ملازمت کے مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات کی ہدایت
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مجاز ڈیلرز یا بینک فوری طور پر ترمیم شدہ فارم آر 25 ہزار ڈالر سے زائد انورڈ ریمیٹنس کے لیے اور فارم ایم آؤٹ ورڈ ریمیٹنس کے لیے استعمال کریں۔
حاصل شدہ معلومات کے مطابق آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو اپنے برقرار رکھے گئے فنڈز مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے، جن میں درآمدات، ایڈوانس ادائیگیاں، غیر ملکی کنسلٹنسی، سافٹ ویئر و آئی ٹی سروسز سبسکرپشنز اور بیرونِ ملک وینڈرز کو ادائیگیاں شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹرز اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس میں موجود رقوم کو صارف کی درخواست پر کسی بھی وقت پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ رقوم کسی دوسرے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کی جا سکتیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر کرنے اور ملازمت کے مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات کی ہدایت
مزید برآں، بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فارم آر اور فارم ایم کو ڈیجیٹلائز کریں اور صارف کے بنیادی ڈیٹا کی خودکار تکمیل کی سہولت فراہم کریں تاکہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہو۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اقدامات آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب ظفر پراچہ کے مطابق رپورٹنگ میں نرمی سے برآمدی رقوم کی ملک میں آمد تیز ہوگی، برآمد کنندگان کو زیادہ زرمبادلہ لانے کی ترغیب ملے گی اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کا توانائی، کان کنی اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق
قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار ہے، اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں آئی ٹی برآمدات 365 ملین ڈالر رہیں۔
جو جنوری 2026 میں 374 ملین ڈالر اور دسمبر 2025 میں 437 ملین ڈالر تھیں۔
جولائی سے فروری کے دوران آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کی مجموعی آمدن 2.97 ارب ڈالر رہی۔














