بھارت میں دورانِ حراست باپ بیٹے کی ہلاکت کے مقدمے میں عدالت نے 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنا دی، جس کے بعد ایک بار پھر پولیس تشدد اور انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ واقعہ 2020 میں جنوبی بھارتی ریاست تمل ناڈو میں پیش آیا تھا، جہاں 58 سالہ پی جے یاراج اور ان کے 38 سالہ بیٹے بینکس کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے کورونا پابندیوں کے باوجود اپنی موبائل فون کی دکان کھلی رکھی۔
یہ بھی پڑھیے: اسکردو میں پرتشدد واقعات کے دوران غفلت برتنے پر گلگت بلتستان پولیس کے 18 افسران برطرف
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ دونوں کو حراست کے دوران برہنہ کر کے ایک دوسرے کے سامنے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو اختیارات کے سنگین ناجائز استعمال کا واضح ثبوت ہے۔ جج کے مطابق ‘ملزمان نے یہ اقدام قتل کی نیت سے کیا’۔
عدالت نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں نے نہتے افراد پر حملہ کیا اور انہیں کسی رعایت کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے ان کی عمر یا خاندانی پس منظر کچھ بھی ہو۔
اس کیس میں مجموعی طور پر 10 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم ایک ملزم 2020 میں کورونا کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔ باقی 9 اہلکاروں کو گزشتہ ماہ قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور اب انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے، جس کے خلاف وہ اپیل کا حق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ
واقعے کے بعد ریاست بھر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا، جبکہ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی اور کرکٹر شکھر دھون سمیت کئی شخصیات نے سوشل میڈیا پر انصاف کا مطالبہ کیا تھا۔
ان ہلاکتوں نے بھارت میں پولیس تشدد کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، جہاں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ہر سال سینکڑوں افراد حراست کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں۔












