سعودی عرب کے اسپتال نے زندہ عطیہ دہندگان کے لیے جگر کی روبوٹک سرجری میں سنگِ میل عبور کرلیا

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال ایںڈ ریسرچ سینٹر نے دنیا کی پہلی روبوٹ کنٹرولڈ، سنگل پورٹ جگر کی سرجریاں زندہ عطیہ دہندگان پر انجام دے کر عضو کی پیوند کاری کے شعبے میں اہم پیشرفت کی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب اور روس کے شہری بغیر ویزا ایک دوسرے کے ملک کا سفر کر سکیں گے، باہمی معاہدہ طے

سنگل پورٹ جگر کی ریسیکشن ایک کم سے کم انووسو سرجری ہے جس میں جگر کا ایک حصہ نکالا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں صرف ایک چھوٹا سا چیرا (3.5 سینٹی میٹر سے کم) بنایا جاتا ہے، جبکہ روایتی روبوٹک سرجری میں کئی چیروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے سرجری کے بعد درد کم ہوتا ہے اور بحالی کا عمل تیز ہوتا ہے، جبکہ حفاظت کے معیار بلند رہتے ہیں۔

یہ سرجری 6 عطیہ دہندگان پر کی گئی، جس کے نتیجے میں خون کا نقصان کم، پیچیدگیاں نہ ہونے کے برابر، درد کی سطح کم اور عطیہ دہندگان 2 سے 3 دن میں اسپتال سے رخصت ہو گئے۔

طبی حکام کے مطابق یہ تکنیک بچوں کے لیے پیوند کاری کے نتائج بھی بہتر کرے گی، کیونکہ یہ جگر کے بائیں طرف کے حصے (کل حجم کا قریباً 20 فیصد) کو نکالنے کے لیے موزوں ہے اور عطیہ دہندگان پر سرجری کے بوجھ کو کم کرتی ہے۔

بتایا گیا کہ یہ تکنیک روبوٹک جگر کی سرجری کے تجربے اور تربیت کے جامع ماڈل پر مبنی ہے۔ اسپتال اب تک 1,600 سے زائد روبوٹک زندہ عطیہ دہندگان کی جگر کی ریسیکشنز کر چکا ہے، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں: خطے میں پاکستان اور سعودی عرب کا کردار، لوگ کیا سوچتے ہیں؟

یہ کامیابی اسپتال کو روبوٹک سرجری اور عضو کی پیوند کاری میں عالمی رہنما کے طور پر مستحکم کرتی ہے، اور سعودی عرب کے ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام اور جدید طبی دیکھ بھال کی حکمت عملی کے مطابق ہے۔

اسپتال نے 2026 میں برانڈ فنانس کی رپورٹ میں مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ میں پہلی اور عالمی سطح پر 12 ویں پوزیشن حاصل کی، اور نیوز ویک کے عالمی بہترین اسپتالوں کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp