سپریم کورٹ میں بانی تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ہتک عزت کیس کی سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے دلائل دیے۔
سماعت کے دوران وکیل مصطفیٰ رمدے نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کے وکیل کی جانب سے نظرِ ثانی کے لیے کوئی ٹھوس نکتہ نہیں اٹھایا گیا، نہ ہی عدالتی فیصلے میں کسی سقم یا غلطی کی نشاندہی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی ہتک عزت کیس: سپریم کورٹ میں بینچ تبدیل
انہوں نے بتایا کہ جولائی 2017 میں شہباز شریف نے بانی تحریک انصاف کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، تاہم بانی کی جانب سے اس کا جواب 4 سال بعد جمع کرایا گیا۔ وکیل کے مطابق تحریری جواب داخل ہونے تک بانی کے وکیل نے 75 مرتبہ التوا حاصل کیا۔
اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ شہباز شریف کا ترمیمی جواب 8 مارچ کو جمع ہوا، جبکہ اس کے بعد بانی کی جانب سے انٹیروگیٹری کا جواب 9 ماہ تک جمع نہیں کرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو وکیل سے ملاقات کی اجازت دی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست
وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ بانی کو گولی لگنے کا واقعہ افسوسناک ہے، تاہم 17 اور 24 نومبر کو عدم دستیابی کا کوئی گراؤنڈ پیش نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، جبکہ وکیل مصطفیٰ رمدے کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔













