بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت اپنی مشرقی سرحد پر بنگلہ دیش کے ساتھ غیر معمولی اور متنازعہ سرحدی انتظامی اقدامات پر غور کر رہا ہے، جس میں مگرمچھوں اور زہریلے سانپوں کو سرحدی علاقوں میں چھوڑنے کا امکان بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس کے اندرونی اجلاسوں میں یہ تجویز زیر غور ہے کہ دلدلی اور بارش زدہ علاقوں میں، جہاں باڑ لگانا مشکل ہے، وہاں ایسے اقدامات کیے جائیں جو غیر قانونی آمد و رفت کو روک سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت ٹاکرے سے قبل کولمبو اسٹیڈیم میں 4 فٹ لمبا سانپ نمودار
بھارت کی بنگلہ دیش کے ساتھ 4,096 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس کا تقریباً 20 فیصد حصہ اب تک بغیر باڑ کے ہے۔ ان غیر محفوظ علاقوں میں تقریباً 850 کلومیٹر ایسے ہیں جہاں قدرتی رکاوٹوں اور سیلابی صورتحال کے باعث باڑ لگانا مشکل قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 26 مارچ کی ایک اندرونی دستاویز میں سرحدی یونٹس سے ‘رینگنے والے جانوروں’ کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ حساس علاقوں میں رکاوٹ پیدا کی جا سکے۔ یہ مبینہ تجویز بھارت کے وزیر داخلہ کی ہدایات سے جوڑی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکہ میں انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، 4 ملزمان گرفتار
سیکیورٹی حکام نے اس تجویز پر خدشات کا اظہار کیا ہے، جن میں مقامی آبادی کی سلامتی، عملی مشکلات، اور ماحولیاتی و انسانی حقوق سے متعلق مسائل شامل ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت ڈرونز، انفراریڈ سینسرز اور نائٹ وژن ٹیکنالوجی کے ذریعے سرحدی نگرانی کو مزید سخت کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم بھارتی حکام کی جانب سے اس مبینہ منصوبے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔














