بنگلہ دیش: آئینی اصلاحات کی شقیں منسوخ کرنے پر حزب اختلاف نے احتجاج کی دھمکی دیدی

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ 11 جماعتوں پر مشتمل حزب اختلافی اتحاد نے حکومت پر حالیہ ریفرنڈم کے نتائج پر عمل درآمد میں تاخیر اور آئینی اصلاحات کو روکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ منگل کو ڈھاکہ میں اتحاد کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس میں سینیئر رہنماؤں سمیت بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پرور اور بنگلہ دیش خلافت مجلس کے رہنما مولانا ممنون الحق نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین میں تاخیر پر تشویش

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں مولانا ممنون الحق نے کہا کہ حالانکہ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہونے والے قومی ریفرنڈم میں تقریباً 70 فیصد ووٹرز نے اصلاحاتی تجاویز کی حمایت کی، حکومت مختلف حربوں کے ذریعے عمل درآمد میں تاخیر کر رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اصلاحات سے متعلق 133 آرڈیننس میں سے حکومت نے کم از کم 20 اہم اقدامات کو منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو سیاسی نظام کی ساخت نو اور آمریت کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے سخت کفایت شعاری اقدامات، عوامی فنڈز سے بیرونی دوروں پر پابندی عائد

اتحاد نے خبردار کیا کہ حکومت کے اقدامات ملک کو ایک پارٹی کے زیر غلبہ نظام کی طرف دھکیل سکتے ہیں اور آمریت کے دوبارہ نفاذ کی صورت میں مزاحمت کرنے کا عزم کیا ہے۔

میاں غلام پرور نے کہا کہ یہ بحران حکمران جماعت کی جولائی چارٹر کے تحت کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کی وجہ سے پیدا ہوا، جو کئی ماہ کی سیاسی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارتی بی جے پی رہنما کے متنازع بیان پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی شدید مذمت

انہوں نے بتایا کہ آئینی اصلاحات سے متعلق 47 نکات سمیت 84 متفقہ نکات حکمران جماعت کی شراکت سے منظور ہوئے، لیکن بعد میں اہم مسائل جیسے وزیراعظم کے اختیارات کی حدود، عبوری حکومت کی شقیں اور آئینی تقرری کے طریقہ کار پر اختلاف ظاہر کیا گیا۔

غلام پرور نے مزید کہا کہ تقریباً 50 ملین لوگوں نے ریفرنڈم میں اصلاحاتی ایجنڈا کی حمایت کی تھی یہی وجہ ہے کہ عوامی رائے کو آئینی عمل کی رہنمائی کرنی چاہیے۔

سیاسی دباؤ کے الزامات

حزب اختلاف نے حکومت پر اختلاف رائے کو دبانے کے بھی الزامات لگائے، جن میں پارلیمانی مباحثے کو محدود کرنا اور سڑکوں پر احتجاج پر ممکنہ کریک ڈاؤن کی وارننگ شامل ہے۔

غلام پروار نے کہا کہ عوام نے انہیں بھی مینڈیٹ دیا ہے۔ ’اگر اس مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا تو ہم اپنی تحریک عوام کے درمیان لے جائیں گے۔‘

اتحاد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آئینی اصلاحاتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور ریفرنڈم میں منظور شدہ تجاویز کو قانون میں شامل کیا جائے، بصورت دیگر آنے والے دنوں میں احتجاج میں شدت آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

پاکستان اور چین کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

آج شہباز شریف نہیں ’شاباش شریف‘، کامیاب سفارتکاری پر پاکستانی فنکار بھی میدان میں

اسلام آباد: سری نگر ہائی وے پر ڈائیورشنز، شہریوں کو اضافی وقت لے کر سفر کی ہدایت

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟