بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین میں تاخیر پر تشویش

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے ملک میں مؤثر انسانی حقوق کمیشن کے قیام اور جبری گمشدگیوں کی روک تھام سے متعلق اہم قوانین کی منظوری میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پیر کے روز ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر افتخار الزمان کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی حقوق سے متعلق اہم قانون سازی کے معاملے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین میں تاخیر شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں عدلیہ کی آزادی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف مؤثر تحفظات موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عبوری دور حکومت کے اہم اصلاحاتی آرڈیننسز ختم ہونے کا امکان

انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی ایک آزاد انسانی حقوق کمیشن کی اہمیت اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قانونی تحفظات کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔

ان کے مطابق ایسے قوانین کو مؤخر کرنے سے معاشرے میں غیر یقینی صورتحال اور خوف میں اضافہ ہوتا ہے۔

ٹی آئی بی حکام کے مطابق اگرچہ پارلیمانی کمیٹی نے حال ہی میں عبوری حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے 133 میں سے 98 آرڈیننسز کو قانون میں تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے سخت کفایت شعاری اقدامات، عوامی فنڈز سے بیرونی دوروں پر پابندی عائد

تاہم انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق کئی اہم اقدامات تاحال التوا کا شکار ہیں۔

تنظیم نے ان شقوں پر بھی خدشات ظاہر کیے جو انتظامی اور عدالتی خودمختاری کو متاثر کر سکتی ہیں، جن میں سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات پر پابندیاں اور عدالتی امور میں انتظامیہ کے اختیارات میں اضافہ شامل ہے۔

مزید برآں، ٹی آئی بی نے بلدیاتی اداروں سے متعلق ترامیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ منتخب نمائندوں کو ہٹانے اور ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کے اختیارات دینا جمہوری اقدار کو کمزور کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈھاکہ ایئرپورٹ کے تیسرے ٹرمینل پر بنگلہ دیش اور جاپان کے مذاکرات بے نتیجہ

تنظیم کے مطابق یہ اختیارات، جو ابتدا میں غیر معمولی حالات کے لیے دیے گئے تھے، مستقبل میں سیاسی کنٹرول کے ایک معمول کے ہتھیار میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

ٹی آئی بی نے حکومت پر زور دیا کہ انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین کی فوری منظوری کو ترجیح دی جائے تاکہ احتساب کو یقینی بنایا جا سکے، اداروں کو مضبوط کیا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘