اسلام آباد میں محدود تجارتی سرگرمیاں، ترمیمی نوٹیفکیشن جاری

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کفایت شعاری مہم کے ضمن میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایک نیا ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت تندور، بیکری اور دودھ کی دکانوں کو دیا گیا استثنیٰ واپس لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کے مطابق، تمام دکانیں، مارکیٹ اور شاپنگ مال اب ویک اینڈ سمیت ہفتے کے تمام روز رات 8 بجے بند ہوں گے۔

ریسٹورنٹس، ہوٹلز، فوڈ آؤٹ لیٹس، تندور، گروسری اور کریانہ اسٹورز رات 10 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری کی سہولت جاری رہے گی۔

شادی ہالز اور مارکیز سمیت دیگر تمام تجارتی ایونٹ کی میزبانی کرنیوالے والے مقامات بھی رات 10 بجے تک بند ہوں گے، جس میں نجی گھروں میں ہونے والی تقریبات بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: کفایت شعاری اقدامات پر وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ میڈیکل اسٹورز، پیٹرول پمپس اور دیگر ضروری خدمات اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

یہ احکامات 7 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گے اور آئندہ احکامات تک جاری رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟