وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو خبردار کیا کہ عالمی توانائی کا بحران جنگ بندی کے بعد بھی مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے کیونکہ خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت اس وقت ایک بحران سے نمٹ رہی ہے اور اگر کوئی پیش رفت رونما بھی ہوتی ہے تو عالمی توانائی کے شعبے کے معمول پر آنے میں مہینے لگیں گے۔
’اگرچہ جنگ بندی حاصل بھی ہو جائے، معمول پر آنے میں ہفتے، بلکہ مہینے لگیں گے کیونکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے ہمیں منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔‘
یہ بھی پڑھیں: ایندھن کا عالمی بحران، چینی صدر شی جن پنگ نے کون سا متبادل نظام تجویز کیا؟
وزیر خزانہ نے اسمبلی کو بتایا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، جس میں پیٹرول کی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس کے اخراجات، خام تیل لے جانے والے جہاز وغیرہ شامل ہیں۔
’ہمیں اس بحران سے آگے کے لیے اسٹریٹجک ریزروز بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا۔‘
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے 2 اور 4 پہیوں والی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا ہے اور اس کی ادائیگی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: توانائی بحران: دفاتر میں ہفتے کے دوران صرف 4 دن کام کرنے کی منظوری، نوٹیفکیشن جاری
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر 129 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے کئی ممالک نے ایندھن کی ریٹنگ شروع کر دی ہے، متحدہ عرب امارات کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں پیٹرول کی قیمت میں 30 فیصد اور ڈیزل میں 70 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس وقت پاکستان کی ترسیلات زر پر ابھی کوئی اثر نہیں پڑا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تقریباً 40 سے 50 فیصد ترسیلات زر خلیجی ممالک سے آتی ہیں۔
مزید پڑھیں: تیل کا عالمی بحران: ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرنے والا نیا چیلنج
’حکومت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ یہ بینکاری، کرنٹ اکاؤنٹ اور مہنگائی پر کس حد تک اثر ڈالے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی حمایت نہایت اہم ہے۔ ’اگرچہ ہم اس بحران میں نسبتاً اچھے بفر کے ساتھ آئے ہیں، بیرونی اور داخلی دونوں طرف… لیکن اس وقت ہمیں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت فراہم کردہ بیک اسٹاپ کی ضرورت ہے۔‘
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اس ہفتے یوروبانڈز کی ادائیگی کرے گا، علاوہ ازیں دیگر ادائیگیاں بھی متوقع ہیں۔
پاکستان اس ماہ متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر قرض واپس کرے گا، جبکہ جون تک مزید 1.3 ارب ڈالر یوروبانڈز کی ادائیگی بھی باقی ہے۔













