افغانستان کی صورتحال سے متعلق اوچا (OCHA) اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کی رپورٹنگ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پیش کی گئی تصویر زمینی حقائق سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی، جبکہ پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کے تناظر میں اس میں واضح تضاد موجود ہے۔
اوچا اور یو این اے ایم اے کی رپورٹس میں طالبان حکومت کو کشیدگی کا متاثرہ فریق ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس بیانیے میں ان عناصر کو نظر انداز کیا گیا ہے جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے حالیہ سرحدی کارروائیاں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی ہیں، نہ کہ عام شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر موجود شدت پسند نیٹ ورکس، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی۔
جواب میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف بین الاقوامی اداروں اور رپورٹس میں افغانستان کو متعدد دہشتگرد گروہوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے، جہاں ہزاروں جنگجو موجود ہیں، تاہم حالیہ رپورٹس میں اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے جس سے صورتحال کا ایک رخ سامنے آتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ بعض مقامات جیسے اسکول، مساجد اور دیگر عمارتیں شدت پسندوں کی جانب سے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسے میں کارروائیوں کے اثرات کو یکطرفہ طور پر پیش کرنا حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اوچا کی رپورٹنگ میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شہریوں اور شدت پسند عناصر کے درمیان واضح فرق نہیں کیا گیا، جس سے عالمی سطح پر تاثر گمراہ کن بن سکتا ہے۔
مزید برآں، یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگر امدادی سرگرمیوں کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو امداد کا فائدہ شدت پسند نیٹ ورکس تک بھی پہنچ سکتا ہے، جو خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں اور ان کا ہدف صرف دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ بین الاقوامی رپورٹس میں اس تناظر کو بھی شامل کیا جائے تاکہ صورتحال کی متوازن اور مکمل تصویر سامنے آ سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدار اور جامع رپورٹنگ کی جائے، بصورت دیگر غلط فہمیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔













