پاکستان کی افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، متنازع رپورٹنگ پر سوالات اٹھ گئے

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کی صورتحال سے متعلق اوچا (OCHA) اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کی رپورٹنگ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پیش کی گئی تصویر زمینی حقائق سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی، جبکہ پاکستان کی حالیہ کارروائیوں کے تناظر میں اس میں واضح تضاد موجود ہے۔

اوچا اور یو این اے ایم اے کی رپورٹس میں طالبان حکومت کو کشیدگی کا متاثرہ فریق ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس بیانیے میں ان عناصر کو نظر انداز کیا گیا ہے جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے حالیہ سرحدی کارروائیاں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی ہیں، نہ کہ عام شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر موجود شدت پسند نیٹ ورکس، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی۔

جواب میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف بین الاقوامی اداروں اور رپورٹس میں افغانستان کو متعدد دہشتگرد گروہوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے، جہاں ہزاروں جنگجو موجود ہیں، تاہم حالیہ رپورٹس میں اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے جس سے صورتحال کا ایک رخ سامنے آتا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ بعض مقامات جیسے اسکول، مساجد اور دیگر عمارتیں شدت پسندوں کی جانب سے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسے میں کارروائیوں کے اثرات کو یکطرفہ طور پر پیش کرنا حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اوچا کی رپورٹنگ میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شہریوں اور شدت پسند عناصر کے درمیان واضح فرق نہیں کیا گیا، جس سے عالمی سطح پر تاثر گمراہ کن بن سکتا ہے۔

مزید برآں، یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگر امدادی سرگرمیوں کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو امداد کا فائدہ شدت پسند نیٹ ورکس تک بھی پہنچ سکتا ہے، جو خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں اور ان کا ہدف صرف دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ بین الاقوامی رپورٹس میں اس تناظر کو بھی شامل کیا جائے تاکہ صورتحال کی متوازن اور مکمل تصویر سامنے آ سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدار اور جامع رپورٹنگ کی جائے، بصورت دیگر غلط فہمیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟