استنبول میں واقع اسرائیلی قونصل خانے کے باہر منگل کے روز پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔
گورنر داؤد گل نے تصدیق کی کہ دوپہر تقریباً 12:15 بجے ہونےوالے حملے میں ایک حملہ آور مارا گیا، حکام کے مطابق اس جھڑپ میں 2 پولیس اہلکار بھی معمولی زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کا انکشاف، 2 افراد گرفتار
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا حملہ اسرائیلی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ترکی میں کوئی اسرائیلی سفارتکار موجود نہیں ہے۔
BREAKING: Shooting reported near Israel's consulate in Istanbul, Turkey
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) April 7, 2026
حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملوں کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نہ صرف ترکیہ بلکہ پورے خطے میں اسرائیلی سفارتی مشنز کو خالی کرا لیا گیا تھا۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں سے مرعوب نہیں ہوگا، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: ترکیہ نے نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
انہوں نے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات کو ترکی کے امن و امان کو نقصان نہیں پہنچانے دیا جائے گا۔
ترک وزیر داخلہ مصطفیٰ چفتچی نے بتایا کہ حملہ آور ازمیت شہر سے کرائے کی گاڑی میں آئے تھے اور ان میں سے ایک کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے تھا جو خطے کا استحصال کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: ترکیہ نے اسرائیلی صدر کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کیوں نہیں دی؟
بعد میں وزارت نے واضح کیا کہ ہلاک ہونے والے حملہ آور کے دہشت گرد تنظیم سے روابط تھے۔
مزید بتایا گیا کہ باقی 2 حملہ آور آپس میں بھائی ہیں جن میں سے ایک کا ماضی منشیات سے متعلق جرائم میں رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ شروع ہوئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ایک پولیس اہلکار کو گرتے ہوئے دیکھا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہا۔ ٹی وی فوٹیج میں پولیس کو ایک مصروف سڑک کے قریب جوابی کارروائی کرتے اور زخمیوں کو اسٹریچر پر منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
مزید پڑھیں: ترکیہ نے اسرائیل سے تجارتی تعلقات منقطع کردیے
استنبول پروسیکیوٹر آفس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سرکاری ٹی وی کے مطابق 3 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
امریکا کے ترکی میں سفیر ٹام باراک نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی مشنز پر حملے عالمی نظام پر حملہ ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس حملے میں ممکنہ طور پر داعش ملوث ہو سکتی ہے، جس نے ماضی میں بھی ترکیہ میں کئی جان لیوا حملے کیے ہیں۔














