وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ختم نہ ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دگنی ہو سکتی ہیں اور سپلائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے امریکا، افریقی ممالک، لیبیا اور نائیجیریا سے درآمدات کا بندوبست کیا ہے، تاہم نئی کھیپ ملک پہنچنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔
ادھر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے اور بعض ممالک میں قلت کے باوجود پاکستان نے صورتحال کو قابو میں رکھا ہے۔
ان کے مطابق حکومت نے صرف سبسڈی کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس پر عملی طور پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ درآمدات اور برآمدات پر فی الحال کوئی منفی اثر نہیں پڑا اور پاکستان سفارتی سطح پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے، تاہم توانائی کے شعبے کو چیلنجز کا سامنا ضرور ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق 14 مارچ سے 4 اپریل تک پیٹرولیم مصنوعات پر 129 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کو ہدفی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈلائن کو چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو سخت حملے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب پر ایران کے حملے، خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا گیا
پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ممالک مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بھرپور سفارتی کردار ادا کررہے ہیں۔













