امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ روک کر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا، جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف ہر جگہ نہایت معزز شخص ہیں، صدر ٹرمپ کا ایران کو ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست پر ردعمل
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر متوقع حملہ مؤخر کرتے ہوئے 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئی، جس میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔
🚨Major Update on the Iran Situation — Two‑Week Ceasefire Announced
Big development today. According to a statement from President Trump, the U.S. is pausing military action against Iran for two weeks after discussions with Pakistan’s leadership. The pause is tied to Iran… pic.twitter.com/aqmQQnnMVv
— Pennybois Trade Alerts (@PennyboisTrades) April 7, 2026
امریکی صدر کے مطابق یہ جنگ بندی اس شرط پر ہوگی کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل مدتی امن معاہدے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ ان مذاکرات کا آغاز اسلام آباد میں جمعہ سے ہوگا اور یہ دو ہفتے جاری رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیڈ لائن تک معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بڑے حملے کیے جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دھمکی دیدی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو ان کی افواج بھی کارروائیاں روک دیں گی۔
BREAKING: A path to a permanent ceasefire is on the table as Iran advances a comprehensive 10-point plan rooted in sovereignty and de-escalation.
Earlier today, Shehbaz Sharif put out a tweet, it seems drafted by the TACO Trump regime suggesting a two week period for talks.
In… pic.twitter.com/PbFyCL10KQ
— Save Our Citizenships 🔻 (@LetsStopC9) April 7, 2026
واضح رہے کہ اس سے قبل صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی تھی اور امریکا کی جانب سے سخت دھمکیوں کے بعد خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا تھا، تاہم اب یہ جنگ بندی امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل ٹروتھ پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی روکنے اور 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں ایران کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی بات چیت کے بعد انہوں نے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کا فیصلہ کیا۔
In a dramatic last-minute move, Donald Trump announces a two-week ceasefire with Iran, conditional on reopening the Strait of Hormuz. The decision comes after hours of intense threats, signaling a sudden shift toward possible diplomacy.#Trump #Iran #Ceasefire #BreakingNews… pic.twitter.com/YfHb7eIntZ
— APT News (@APT__News) April 8, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ایران کے خلاف ’تباہ کن طاقت‘ کے استعمال کو مؤخر کیا اور 2 ہفتوں کے لیے بمباری اور حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ اس شرط کے ساتھ کیا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولے گا۔
اپنے پیغام میں امریکی صدر نے اس پیشرفت کو ’دو طرفہ جنگ بندی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے لیے پیشرفت جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جبکہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر بھی اتفاق ہو چکا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 2 ہفتوں کی یہ مہلت حتمی معاہدے کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
جنگ بندی خوش آئند اور امن کی طرف ایک اہم قدم ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے دونوں ممالک دو ہفتے کے لیے جنگ روکنے پر آمادہ ہوئے ہیں، جبکہ مزید مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے پیغام میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشرفت خطے میں امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، جس کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the…— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
وزیراعظم نے اس پیش رفت کو پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت کا موقع مل سکے۔
شہباز شریف نے امریکا اور ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس فیصلے کو دانشمندانہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا اور ایران کے وفود کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے، جہاں ’اسلام آباد مذاکرات‘ کے تحت مستقل امن معاہدے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں خطے میں استحکام اور بہتری کی مزید مثبت خبریں سامنے آئیں گی۔













