امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور عالمی مارکیٹ میں سونا تقریباً 3 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کم ہوئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی خریداری بڑھا دی۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں بڑی کمی، آج کتنا سستا ہوا؟
رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,812 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ ایک موقع پر یہ 3 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 19 مارچ کے بعد بلند ترین سطح پر بھی گیا۔ امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دینے پر اتفاق کیا ہے اور ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے بات چیت کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے، فی تولہ قیمت نے ریکارڈ توڑ دیا
ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے، جس کے باعث سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم بھی ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمت میں 8 فیصد سے زائد کمی آئی تھی، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دیگر دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، چاندی کی قیمت 4.9 فیصد بڑھ کر 76.48 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 2,020 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 4.1 فیصد اضافے کے بعد 1,529 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔














